جو ذکرِ شہاں لفظ و معانی میں رہے گا



جو ذکرِ شہاں لفظ و معانی میں رہے گا

یہ بحرِ بصیرت بھی روانی میں رہے گا

کھلتے ہی چلے جائیں گے اسرارِ شہادتیہ ذوقِ تجسس جو کہانی میں رہے گا
گنتی کے یہ دن وقت کا پیمانہ بنے ہیںقرنوں کا سفر دورِ زمانی میں رہے گا
یہ حلقۂ رحمت ہے جہاں اشک رواں ہیںدستور یہی مرثیہ خوانی میں رہے گا
اک تیر امر کرتا چلا تشنہ لبی کواک پیاس کا چرچا سدا پانی میں رہے گا
جس عمر میں اکبر نے پیا جامِ شہادتیہ دور ہمیشہ ہی جوانی میں رہے گا
اک خواب کی تعبیر وراثت میں ملی تھیبیٹوں کا ذبیحہ یہ نشانی میں رہے گا





Comments