مرے حسین کا عالم میں مرتبہ ہے بلند



مرے حسین کا عالم میں مرتبہ ہے بلند 
کہ سر کٹا کے بھی نیزے پہ سر ہُوا ہے بلند

مَیں جانتا ہُوں وگرنہ تو خاک میں کیا تھا
کہ اہلِ بیت کی نسبت سے کربلا ہے بلند

لٹاکے جان عبادت میں اے خدا تیری
نمازیوں نے کیا تھا جو سلسلہ ہے بلند

پڑے جو پاؤں تو صحرا سے روشنی پھوٹی 
مرے حسین کا اب تک بھی معجزہ ہے بلند 

ازل سے تا بہ ابد سلسلہ چلے گا امیر
وفا کے باب میں آئینہء صدا ہے بلند





مصنف کے بارے میں


...

اسامہ امیر

1998 - | کراچی


اسامہ امیر شیخ 6 اپریل 1998 کو کراچی میں پیدا ہوئے میٹرک 2015 میں گڈ زون گرائمر اسکول کراچی سے کیا۔ ایف ۔ اے کے طالبِ علم ہیں شاعری کا آغاز 2014 میں کیا فیس بک پہ پاک و ہند کی نوجوان نسل کا غیر مطبوعہ کلام کے نام سے ایک پلیٹ فارم چلا رہے ہیں




Comments