حسین آج بھی تنہا دکھائی دیتا ہے



وہی سفر وہی صحرا دکھائی دیتا ہے
حسین آج بھی تنہا دکھائی دیتا ہے

بس اک چراغ ہوا تھا سر سناں روشن
یہ سب اسی کا اجالا دکھائی دیتا ہے

کوئی بھی ہو ، وه کہیں کا بھی رہنے والا ہو
تجھے پکارے تو اپنا دکھائی دیتا ہے

نظر کے ساتھ جو دل سے بھی دیکھ سکتا ہو
اسی اسی کو یہ رستہ دکھائی دیتا ہے

کبھی جو پیاس کا شمشیر ذکر کرتا ہوں
تو لفظ لفظ میں دریا دکھائی دیتا ہے






Comments