زندہ ہے کربلا



وہی علم ہے، وہی لوگ، قافلہ ہے وہی
وہی سلگتی ہوئی ریت، راستہ ہے وہی

وہی جلے ہوئے خیمے، پھٹی ہوئی چادر
وہی ہیں زخم، اذیت کی انتہا ہے وہی

وہی کٹے ہوئے بازو، چھدی ہوئی مشکیں
لب_زمانہ پہ عالم بھی پیاس کا ہے وہی

وہی رعونت_شاہی، وہی تکبر_ حکم
مگر حسین کی حکمت کا فیصلہ ہے وہی

چلو۔۔۔ ادا کریں مل کر امام کی سُنت
وہی ہیں جابر و غاصب، یہ کربلا ہے وہی






مصنف کے بارے میں


...

محمد فیضی

April 4 - | Faisalabad lylpur





Comments