یہی وہ دن ہیں کہ ہر شام شامِ گریہ ہے



یہی وہ دن ہیں کہ ہر شام شامِ گریہ ہے 
کسی کا دھیان ہے اور اہتمامِ گریہ ہے

اٹھی خیال میں پھر موجِ خوں بحالی کو
کہ جس کے دم سے نگہ تشنہ کامِ گریہ ہے

نماز سا ہے کم و بیش سلسلہ غم کا 
سجودِ اشک ہیں شب بھر  قیامِ گریہ ہے

یہ ایک وقفہ حضوری کا ہے جو آنکھ ہے خشک
اور ایک چپ سی جو قائم مقامِ گریہ ہے

ستارگاں پہ بھی طاری ہے ماتمی گردش 
ادھر بھی آب و ہوا ہمکلامِ گریہ ہے 

طلوعِ ماہِ محرم خموش رہ کے نہ دیکھ 
دِلا یہ ساعتِ نم ہے مقامِ گریہ ہے





مصنف کے بارے میں


...

احسان اصغر

December 30 ,1996 - January 25,2020 | Gujranwala


Poet




Comments