مرشد چراغِ خیمہِ رحمت بجھائے گا



مرشد چراغ خیمہء رحمت بجھائے گا
یکلخت نور دور تلک پھیل جاۓ گا

لکھنے تو بیٹھ پیاس کے ماروں کا تذکرہ
آب سخن کا جام مدینے سے آئے گا

یہ اپنے اختیار کی شے ہے جناب من
اشک عزا کو جبر کہاں روک پائے گا

رہئیو سنبھل کے گیتی و مریخ و آفتاب
اک باپ،اک جوان کے لاشے پہ آئے گا

کب مرثیہ پڑھے گا یہ بیمار، ہائے ہائے
الشام کی صدا سے دلوں کو ہلائے گا

بس اب تبرکات نکلنے کی دیر ہے
پرچم کسی کا جھوم کے سر کو اٹھائےگا
احمدجہاں گیر





مصنف کے بارے میں


...

احمد جہاں گیر

28Oct1984 - | Karachi


احمد جہاں گیر کا تعلق کراچی سے ہے باقاعدہ شاعری کا آغاز دو ہزار سولہ میں کیا فیس بک پر ایک گروپ میں پورے ملک سے تقریباً تین سو پختہ کار شعراء کے درمیان ہونے والے مقابلے میں پانچ لاکھ روپے کا پہلا انعام حاصل کیا فی الحال غزل کی صنف میں شعر کہتے ہیں اپنی غزل کی منفرد منفرد فضا بنا چکے ہیں




Comments