شعر آئے وزن میں، جو کروں شاہِ دیں کی بات



شعر آئے وزن میں، جو کروں شاہ دیں کی بات
قالب بدل کے لفظ بنیں، سب تبرکات
................
دل ہے تو کربلا کا ابھی یاں ظہور ہو
پرچم اٹھاؤ، آؤ، چلو یہ رہی فرات
................
مصرعہ ولائے آل محمدؐ میں پیش ہو
زیر و زبر بلند کریں نغمہء صلات
................
سوگند ہے نبیؐ کی، پکارا خدا کو جب
امداد کو بڑھا ہے، ہمیشہ خدا کا ہاتھ
................
بکھرے پڑے ہیں خاک مدینہ سے تا بہ شام
باغیچہء بتول محمدؐ کے پات پات
................
یہ کس صغیر سن کی شہادت کا وقت ہے
پروردگار، دیکھ، رخ شاہ شش جہات
................
گیسو، قبائے سرخ، یہ قاسم، مرا حسین
سہرا، حنا کا رنگ، یہ نوشاہ، وہ برات‎
................‎
اک شمع شاہ دیں نے بجھائی تھی ایک شب
اب تک کھڑی ہے منہ کو چھپائے سیاہ رات
................
اللہ، کیا ستم کے سر کربلائے شام
حبس جفا کی قید میں انسان کی نجات
................
احمد جہاں گیر





مصنف کے بارے میں


...

احمد جہاں گیر

28Oct1984 - | Karachi


احمد جہاں گیر کا تعلق کراچی سے ہے باقاعدہ شاعری کا آغاز دو ہزار سولہ میں کیا فیس بک پر ایک گروپ میں پورے ملک سے تقریباً تین سو پختہ کار شعراء کے درمیان ہونے والے مقابلے میں پانچ لاکھ روپے کا پہلا انعام حاصل کیا فی الحال غزل کی صنف میں شعر کہتے ہیں اپنی غزل کی منفرد منفرد فضا بنا چکے ہیں




Comments