جلنے لگے چراغ مدینے کے شام سے



جلنے لگے چراغ مدینے کے شام سے
امشب بلا کا نور ہے سوز و سلام سے

مجھ کو مرے حسین کا خطبہ سنائیے
مجلس کی ابتداء ہو کلام امام سے

لوبان جل رہا ہے یاں عجز و نیاز کا
عشاق رو رہے ہیں بہت احترام سے

طائف سے کربلا کا تعلق نبھائیے
یعنی نبی کا ذکر ہو پہلے امام سے

تابوت اٹھ رہا ہے شہید غریب کا
نکلے تبرکات بہت احتشام سے

چقماق اس چراغ کو روشن کہاں کرے
جو ضو فشاں ہو صرف درود و سلام سے 
احمدجہاں گیر





مصنف کے بارے میں


...

احمد جہاں گیر

28Oct1984 - | Karachi


احمد جہاں گیر کا تعلق کراچی سے ہے باقاعدہ شاعری کا آغاز دو ہزار سولہ میں کیا فیس بک پر ایک گروپ میں پورے ملک سے تقریباً تین سو پختہ کار شعراء کے درمیان ہونے والے مقابلے میں پانچ لاکھ روپے کا پہلا انعام حاصل کیا فی الحال غزل کی صنف میں شعر کہتے ہیں اپنی غزل کی منفرد منفرد فضا بنا چکے ہیں




Comments