جنبش مژگاں

...

جنبش مژگاں

جنبش مژگاں ایک ایسی عالمی ادبی فورم ہے.جو اپنے ادبی دوستوں کے حوالے سے روز بروز الگ نوعیت کی ادبی سرگرمیاں سامنے لے کر آرہی ہے.جو پرنٹ میڈیا پر بھی لائیں جاتیں ہیں.تنقیدی نشست ہو یا ادبی شخصی تعارف، لائیو مشاعرے ہوں یا مکالمے کی نشست وہ ادب کے فروغ کے لیئے بڑی جانفشانی کے ساتھ مستعد ایڈمنز کی زیر نگرانی کام کررہی ہے.حال ہی فورم نے اپنا کام مزید سوشل ویب سائٹس، یوٹیوب اور پرنٹ میڈیا پر مزید پھیلانے کا اور چند مزید نئ ادبی سرگرمیاں شروع کرنے کا ارادہ کیا ہے.اور اس پر کام بھی شروع کردیا ہے.اسی سلسلے کی پہلی کڑی ادبی لیکچرز ہیں جن کا جنبش مژگاں نے اہتمام کیا ہے. اور پہلے لیکچر کے لیئے جناب شہزاد نیر صاحب کو مدعو کیا جو بلاشبہ ایک بہترین شاعر ہیں.اور ادبی منظر نامے میں اپنی ایک علیحدہ پہنچان رکھتے ہیں.دیکھا جائے تو معاصر غزل کی بنیاد ہی مضمون آفرینی پر ہے اور معانی آفرینی کا یہ عمل جب لکھنے والے کی شخصیت کا رخ کرتا ہے تو انفرادی شناخت کا راستہ کھلتا ہے.شاعری کے عمل اسکے مختلف مراحل اور مدارج کو سمجھنے کے لیئے کافی غوروفکر کی جاتی رہی ہے اور کی جارہی ہے.اور ہمارے قبل قدر سینیئرز ہمارے لیئے اس شعری سفر میں کسی مشعل راہ سے ہر گز، ہر گز کم نہیں ....تو کیوں نہ ان سے ہر ممکن استفادہ کیا جائے.تو آیئے محترم شہزاد نیر کے ادبی تجربے کی روشنی میں نظم اورمابعد جدیدیت کے فلسفے کو سمجھنے کی ایک کوشش کرتے ہیں.جو حرف بہ حرف ذیلی سطور میں درج کیا جارہا ہے. پروگرام آرگنائزر کاظم بخاری رابطہ نمبر واٹس ایپ 03047508338