افضل خان

...

افضل خان

افضل خان کے ہاں تصوف کا اک نیا جہان آباد ہے جو اپنی مستی میں مگن اپنے محبوب سے اس انداز میں گفتگو کرتا دکھائی دیتا ہے جیسے آمنے سامنے سوال کیے جا رہے ہوں اور جواب مل رہے ہوں۔ مضمون آفرینی،تازہ کاری،کرافٹ،توانا لہجہ یہ سب لوازمات آپ کو اک عمر کی مہلت میں ملتے ہیں۔ افضل خان کے ہاں اشعار ایک لڑی میں پروئے ہوئے روانی کا جادو جگاتے دکھائی دیتے ہیں۔اور پھر افضل خان نے خود پر کسی مخصوص لہجے کے شاعر کی چھاپ نہیں پڑنے دی۔وہ عشق کرتا ہوا بھی دکھائی دیتا ہے اور رزق کماتا ہوا بھی،شہر کے شور سے نالاں بھی ہے اور گاؤں کی ویرانی سے خائف بھی۔درودیوار سے جڑا ہوا بھی دکھائی دیتا ہے اور طبیعت میں آوارگی بھی ہے۔ کسی منظر کا حصہ ہوتے ہوئے اس منظر کی تیسرے زاویے سے منظر کشی کرتا ہوا،معاشرتی نا انصافی،طبقاتی تقسیم الغرض مختلف کرداروں میں جان ڈالتا ہوا افضل خان ہر لہجے کا شاعر ہے۔