یہ روز کون مر جاتا ہے



میں ٹُوٹے چاند کو صبح تک گنوا بیٹھی ہوں

اِس رات کوئی کالا پُھول کِھلے گا

میں اَن گنت آنکھوں سے ٹُوٹ گری ہوں‘میرا لہُو کنکر کنکر ہوا

میرے پہلے قدم کی خواہش دوسرا قدم نہیں

میرے خاک ہونے کی خواہش مٹی نہیں

اے میرے پالنے والے خُدا ؟

مِرا دُکھ نیند نہیں ترا جاگ جانا ہے 

کون میری خاموشی پہ بین کرتا ہے

کون میرے سُکھ کے کنکر چُنتا ہے

یہ روز ، یہ روز کون مر جاتا ہے

جاگ اپاہج بچوں کے رب

کہ میری آنکھیں جوان ہوئیں

نیت کی آستین پر رات پھنکارتی ہے

وقت کی سلاخوں پر

انسانوں کے چراغ جلائے جاتے ہیں

میں اپنے لہُو سے ، اپنے جذبے چُنتی

تو میرے ہاتھ جل جاتے

اِس بُھوک کا میرے بچوں کے ساتھ

انکار دیکھ






مصنف کے بارے میں


...

سارا شگفتہ

1954 - 1984 |


سارا شگفتہ




Comments