ہونٹ میرے گداگر



زمین میری تھکن سے بھی چھوٹی ہے

لگام سفر سے زیادہ ہے

سو بے ارادہ ہے

میں بہت ہنسنا چاہتی ہوں

لیکن پھر شاید میرے ہونٹ جھوٹے ہو جائیں

میں تو اُسی وقت ڈر گئی تھی

جب میرا باپ میری ماں کے ساتھ

قہقہہ لگانے میں مصروف تھا

سارے قدم رُخصت ہو چکے تھے

اور ساری آنکھیں بھنبھنا رہی تھیں

میں آواز کا بدن توڑتی ہوں

میں کتنے گاروں سے بنی تھی

کون خوف کے کنویں کھود جاتا ہے

تمہیں دیکھ کر تو مجھے اپنی پستیاں یاد آجاتی ہیں

لہو کی ٹھیکری ہی میرے کھیل بگاڑتی ہے

اور چھاؤں سے سُورج اُڑ جاتا ہے

میرا آخری قیام ہے اور لوگ رازداری میں مصروف ہیں

میں مکمل طور پر ہنس چکی ہوں

بدن کا چاک در نہیں داغ سکتا

وہ چائے کی پیالی آج تک مَیں نہیں اُنڈیل سکی

جو مُردہ دودھ سے بنائی گئی تھی

صبح و شام پرندے بدن سے اُڑتے ہیں

اور رات بھر پرواز میں سوتے ہیں

عالموں نے میری فال نکالی

اور میرا نام سرائے رکھا

دُنیا ہر ایک فرد کے بعد تیسری ہوتی ہے

اور دوسرا فرد غائب ہو جاتا ہے

سائے زمین کا مذہب تھے

اور پانیوں میں بَل ڈالنے کے بعد

رَسّی زمین پہ رہن رکھ دی جاتی ہے

مجھے دیکھنے سے پہلے یہ سارے لوگ شفاف تھے

پھر میں نے ان کا خمیر گوندھا اور نمک سے کہا چکھ

آگ کی تلاش میں میرے کئی چراغ بچھڑ گئے

وفاداری کی گلیوں میں کُتیا کم

اور کُتا زیادہ مشہور ہے

مالکوں کو میں اپنے فٹ پاتھ کا نمبر لکھ دوں

کہ سرِ شام سورج انکار کرنے لگتا ہے

میرے گھر کی سلاخوں سے

کتنے کتوں کی زنجیریں بنتی ہیں

میں اپنی تلافی میں تمہیں شریک نہیں کروں گی

انسان دوسری غلطی کبھی نہیں کرتا

میں پھر خُدا کو تیسری بار دُہراتی ہوں

کھلونے کا مقدر زیادہ سے زیادہ ٹوٹ جانا ہے






مصنف کے بارے میں


...

سارا شگفتہ

1954 - 1984 |


سارا شگفتہ




Comments