گھڑی جو دیوار ہو چکی تھی



تمہارا دوسرا سراپا !

میری ماں فوت ہوچکی ہے ۔۔۔۔

میرے دوست سمندر !

میرے بٹن تیرے سینے میں کہیں دفن ہو گئے

میرے آنگن کے پودے کی قمیض میں

کسی نے بٹن ٹانک دیئے

پودا بڑھ گیا میری دیوار چھوٹی پڑ گئی

جیسے میرے سراپے کو نئی اور پُرانی گھڑیوں کی 

سُوئیوں سے سی دیا گیا ہو

پُرانی گھڑی کی سُوئی

اور چادر کے تار سے بٹن لگاتی ہوں

تمہاری چادر کے دو تار کم ہو گئے

یہ چادر بھی لے لو اور پُرانی گھڑی کی سُوئیاں بھی ۔۔۔

اور گھڑی جو دیوار ہو چکی






مصنف کے بارے میں


...

سارا شگفتہ

1954 - 1984 |


سارا شگفتہ




Comments