کوئی کپڑے کیسے بدل گیا



میں اپنے لباس پھینکتی جا رہی ہوں

شاید کوئی ٹھٹھر رہا ہو

کل تمہیں بانٹ دے گی

اور مٹی پہ کوئی سیدھی راہ نہیں ہے

چراغ نے چغلی سیکھی

اور قطار میں فاصلہ رکھا

وہ وہیں رہ گیا جہاں سے مجھے چلنا تھا

داغ کس کی چتا پہ جلیں گے

ٹُوٹے کھلونے ہاتھوں سے آزاد ہیں

کھیل میدانوں میں رہنے لگے

بِین رسیوں پہ بجائی جانے لگی

پرندوں کے چہچہانے میں بل پڑ گئے ہیں

میں کفن ہارنے چلی تھی

اور مٹی دریافت کر بیٹھی

دیواروں پہ اینٹیں مرنے لگیں

میں اُتری ہوں

تمہارے قدم کیوں گھٹ رہے ہیں

دار نے رہائی پائی کوئی نئی سزا تقسیم کرو

لہو میں آواز رہ گئی

کوئی کپڑے کیسے بدل گیا






مصنف کے بارے میں


...

سارا شگفتہ

1954 - 1984 |


سارا شگفتہ




Comments