ڈال کتنے رنگ بوئے گی



کون جانے ڈال کتنے رنگ بوئے گی

پر ہماری قبر ہمیں بوتی نہیں

ورنہ گدائی کے طور پر

کشکول اور رات میں سمجھوتہ ہو چکا تھا

اجل کی ڈبیا میں خواہش بند ہے

سارے موسم مجھ سے شروع ہوتے ہیں

زمین دریاؤں کا کھوج لگانے کو چلی

میں اپنے رب کا خیال ہوں

اور مری ہوئی ہوں






مصنف کے بارے میں


...

سارا شگفتہ

1954 - 1984 |


سارا شگفتہ




Comments