چاند کتنا تنہا ہے



پنجرے کا سایہ بھی قید ہے

لباس کا سایہ میں ہوتی جا رہی ہوں

میرے ہاتھ دوسروں میں بس رہتے ہیں

مٹی اکیلی ہو گئی ہے

اکیلا دریا سمندر کیوں گیا

فیصلہ کتنا تنہا ہے

رُوٹھ رُوٹھ جاتی ہوں مرنے والوں سے

اور جاگ اُٹھتی ہوں آگ میں

گونج رہی ہوں پتھر میں

ڈُوب چلی ہوں مٹی میں کون سا پیڑ اُگے گا

میرے دُکھوں کا نام بچہ ہے

میرے ہاتھوں میں ٹُوٹے کھلونے

اور آنکھون میں انسان ہے

بے شُمار جسم مجھ میں آنکھیں مانگ رہے ہیں

میں کہاں سے اپنی ابتدا کروں

آسمانوں کی عُمر میری عُمر سے چھوٹی ہے

پرواز زمین نہیں رکھتی

ہاتھ کس کی آواز ہیں

میرے جُھوٹ سہہ لینا

جب جنگل سے پرندوں کو آزاد کر دو

چراغ کو آگ چکھتی ہے

میں ذات کی منڈیر پر کپڑے سُکھاتی ہوں

میرے فاصلے میں آنکھ ہے

میرے لباس میرے دُکھ ہیں

میں آگ کا لباس پہننے والی

اپنی چھاؤں کا نام بتاؤں

میں تمام راتوں کے چاند تمہیں دیتی ہوں






مصنف کے بارے میں


...

سارا شگفتہ

1954 - 1984 |


سارا شگفتہ




Comments