پرندے کی آنکھ کُھل جاتی ہے



کسی پرندے کی رات پیڑ پر پَھڑپھڑاتی ہے

رات ، پیڑ اور پرندہ

اندھیرے کے یہ تینوں راہی

ایک سیدھ میں آ کھڑے ہوتے ہیں

رات اندھیرے میں پھنس جاتی ہے

رات تُو نے میری چھاؤں کیا کی !

جنگل چھوٹا ہے

اِس لئے تمہیں گہری لگ رہی ہوں

گہرا تو میں پرندے کے سو جانے سے ہوا تھا

میں روز پرندے کو دلاسہ دینے کے بعد

اپنی کمان کی طرف لوٹ جاتی ہوں

تیری کمان کیا صبح ہے

میں جب مری تو میرا نام رات رکھ دیا گیا

اب میرا نام فاصلہ ہے

تیرا دوسرا جنم کب ہوگا

جب یہ پرندہ بیدار ہو گا

پرندے کا چہچہانا ہی میرا جنم ہے

فاصلہ اور پیڑ ہاتھ ملاتے ہیں

اور پرندے کی آنکھ کُھل جاتی ہے






مصنف کے بارے میں


...

سارا شگفتہ

1954 - 1984 |


سارا شگفتہ




Comments