میں اپنی دیوار کی آخری اینٹ تھی



اُس نے آخری برتن گنا

اور میری پیاس بتا دی

کبھی میں اُسے کھوتی کبھی وہ مجھے ڈھونڈ لیتا

زمینی بازگشت سے دُکھوں کو زبان مل گئی

میرا مکان خالی پڑا تھا

اور میں پڑوس میں رہ رہی تھی

کہ سمندر کے کچے راستوں کی مجھے خبر ہو گئی

میں اپنے مکان کی آخری اینٹ تھی

وہ مجھ سے ٹوٹ گرے تھے

جن کے لباس میرے برابر ہو گئے تھے

وہ مجھےمہنگی آنکھ سے دیکھ رہے تھے

اور کرن کا درد شدید تھا

وہ میرے تھے اور ہاں کہہ گئے تھے

ہمارے درمیان زمین سو گئی تھی

وہ نیند میں گُنگنا رہے تھے

اُس نے مجھے سُورج کے دو رنگ گنوائے

تو میں اُس کا چاند بُوجھ گئی

رات دیواروں میں رہنے لگی

پھر سُورج کبھی نہ لوٹا

میں اپنی آنکھیں سینک رہی تھی

کہ پتھر چٹخ گئے

اور دروازوں کی طرف دیواریں بڑھ گئیں

میں لہُو میں گُھل مل گئی تو آنکھ بول اُٹھی

پُھول چُن لیتی تو مٹی کا دیدار کیسے کرتی

پگڈنڈی پُکاری

سنگِ میل جُھوٹا ہے

آنکھ کے پاس ہے سیدھی راہ

وہ میری آنکھوں کے ہمبستر تھے

من سا مَنکا کہاں رکھتی

میری رات انسان خرید لائی ہے ، چُپ مت رہنا

منڈیروں پر دوپٹے سُکھانے والیاں کیا گھر میں ہیں

سُورج کسی کی کیاری ہے

چاند دو گھونٹ پیاس اور

ہاتھ جھٹک کر میں تو پیدل چل نکلی

جنگل رکھتی ہوں ، مجھے اپنی اپنی بولیاں تو دو






مصنف کے بارے میں


...

سارا شگفتہ

1954 - 1984 |


سارا شگفتہ




Comments