میرے تینوں پُھول پیاسے ہیں



ماں کے آنسو اب زمیں پہ گرنے لگے ہیں

اور لوگ ہنسنے لگے ہیں

میرے پاس اور بھی موت کے سات روز ہیں

الوداع کیا ایسی ہوتی ہے !

کہ میرا ہاتھ تھمنے والا ہے 

میری قمیض کے دھاگوں سے داستانیں لکھی جائیں گی

رونا مت ، میرا لہُو بہت اُداس تھا

میرے کتبے پہ پُھولوں کو دُہرانا مت

اُڑ جانے والی آنکھیں کہیں نہ کہیں تو بس رہی ہوتی ہیں

پگلی میں نہیں اُس کا قدم تھا

جو میرے لہُو میں داخل ہو گیا تھا

کاش میں آنکھیں تمیں باندھ کر دے سکتی

سب سے زیادہ فضول خرچ آنکھ ہوتی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں نے تو بہت ہنسی بانٹی تھی

یہ میرے ہونٹوں سے کیسے گِر گئے ۔۔۔۔۔

کون میرے نام کی روٹی دے کر بُھوکا رہتا ہے

کون مجھے کاندھا دے کر گذر جاتا ہے

میرے گجرے کے تین پُھول پیاسے ہیں ۔۔۔

اس سے پہلے کہ میں مٹی میں رچ جاؤں

میرے ساتھ انصاف کرنا ۔۔۔۔۔۔

میرے راستوں کی بُھول مجھے معاف کرنا

کہ کنویں میں ڈولتی رسی جل تو سکتی ہے

پیاس نہیں بُجھا سکتی

کِس کِس کے ہاتھ پہ آنکھیں رکھ دُوں

اور کِس کِس کو الوداع نہ کہوں






مصنف کے بارے میں


...

سارا شگفتہ

1954 - 1984 |


سارا شگفتہ




Comments