رسیاں



وہ تنہائی سے بہت خوف زدہ تھی !

اور گھر کے کونوں کُھدروں میں اس کے جذبے پڑے تھے

وہ اپنے آپ سے بچھڑی بچھڑی بان کی چارپائی پر کسی پڑی تھی

اُس کے کپڑوں پر رَسیوں کے لمس پیوست ہو رہے تھے

اور وہ رسیوں کو کروٹ دے رہی تھی

وہ اپنے قدموں کی پائینتی سے اُلجھ رہی تھی

بان کی آواز اُس کے کورے بدن پر میں شامل ہو کے اُسے گننے لگی

وہ اپنی آنکھوں اور ہاتھوں کی تنہائی کو بڑی تنہائی سے دیکھنے لگی

انسانوں کی ہجوم دار آنکھوں نے اُسے کنچوں کی دوکان سمجھ رکھا تھا

اور وہ رسیوں کو کروٹ دے رہی تھی

اب وہ دیوار کے کونے سے نکلنا چاہتی تھی ، اُس نے ایک جُوتیوں بھری کروٹ لی

نیند کے پھندوں سے آزاد کروٹ

وہ اپنی قید بھری جُوتی کو دیکھنے لگی

جو کسی بھی دُوکان سے مہنگی تھی

روز اس مہنگی رات میں آگ اُس کو سستی پڑ رہی تھی

اور مہنگی تنہائی کو وہ سستا نہیں کر پا رہی تھی

کہ جذبے گھر کے کونوں کُھدروں سے اُسے جھانک رہے تھے

ٹاٹ کے پردے کو کبھی کبھی ہَوا جھانک کر چلی جاتی تو اُس کا آسمان رَسیوں پر آن گرتا

رات کی لمبی چادر صبح ہوتے ہی کفن جتنی لمبی ہو جائے گی ! وہ کہتی رہی،

مگر جانے کس سے ، اور کیا ----

اُس نے بان کی چارپائی سے ایک لمبی رسی نکالی تو رسی اتنی لمبی نکلی کہ

چارپائی میں صرف ادوین رہ گئی

اب ادوین ، رسی اور وہ اپنی اپنی تنہائیون میں چُپ تھیں

کہ تنہائی کو وہ اور تنہائی اُسے گُنگنانے لگی تو اُس نے اپنے تنہا ہاتھوں سے کہا

سیاہ وقت کے بعد چراغ کو پُھونکنا لازمی ہوتا ہے !

کہ دُھوپ کے گیتوں کو وہ اپنے کپڑوں کی رسیوں سے کَس دے

تا آنکہ دُھوپ کی آواز کو تنہا کر سکے

رات کے زندہ پَر ابھی پھڑپھڑا ہی رہے تھے کہ

وہ پائنتی پر رسی کی طرح لیٹ گئی

دونوں رسیاں جب ایک ہوئیں ، چراغ کی زبان کو دُہرا کر گئیں

رسیاں چراغ سے زیادہ سچی نکلیں کہ اپنا تنہا بدن نہیں بُھولی تھیں

دونوں رسیاں اپنی اپنی تنہائی سے اُٹھیں !

اور تنہائی کو بڑی تنہائی سے دیکھنے لگیں ---






مصنف کے بارے میں


...

سارا شگفتہ

1954 - 1984 |


سارا شگفتہ




Comments