رات چُٹکی بجاتی ہے دن کی پور سے



پیڑوں کی پائل ہوا پہنے

دریا کو ساکت کئے دیتی ہے

اور پھر سمندر نے کہا

کناروں کی گود میں مَیں ایک سفر ہوں

رسی کا جہاز ڈُوب چکا

اور لہریں جالوں کا

اعتبار قائم کئے ہوئے ہیں

پھر یہ پتھروں کو دیکھتی لہریں

گم ہو جاتی ہیں گہرے ساکت ہجوم میں

رات چُٹکی بجاتی ہے دن کی پور سے

وقت لے کر آنے لگے

جن کے پاؤں چُرا لئے گئے

اور بِین دریاؤں پر بجائے جانے لگی

ہم اپنی شرمگاہوں میں چُھپے بیٹھے تھے

کہ دُوسروں کی آنکھیں اُلٹ پلٹ کر دیکھنے لگے

بازوؤں اور ٹانگوں میں پیروں کا فاصلہ ہے

میں نے ایک پاؤں کاٹا

اور ایک سنگِ میل بنا دیا






مصنف کے بارے میں


...

سارا شگفتہ

1954 - 1984 |


سارا شگفتہ




Comments