بیساکھیاں



بیساکھیوں میں لگی آگ

کون جانے زندہ کون ہے

گھڑی یا وقت

ہڈیوں کی بیساکھیوں پر جذبے اُترے

اور ایک بیساکھیِ دل جو جلتی رہتی ہے

دُکھ کی تلاشی رہتی ہے

کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پہ جو جذبے جل رہے ہیں

اپنی بیساکھیاں بُھول گئے ہیں

اور تم جو مجھے گن رہے ہو

اپنی بیساکھی بھُول رہے ہو

رُوح کی تن آسانی سے بیساکھیوں کا پیمان باندھا

اور مجھے کہا ۔۔۔

تو ساری بیساکھیاں میری طرف دیکھنے لگیں

دیپ کے من میں جو بیساکھی جل رہی ہے

وہ میرا دل تھا

بیساکھی جو مُردہ پیڑ سے بنائی گئی ہے

کتنے سچے موسم رکھتی ہے ۔






مصنف کے بارے میں


...

سارا شگفتہ

1954 - 1984 |


سارا شگفتہ




Comments