باہر آدھی بارش ہو رہی ہے



آئینے کو شُمار مت کرو

وہ ایک قدم چل نہیں سکتا

قدم اور آئینے کا تعلق

جھانکنا ہے تو آنکھ سے جھانکتے

کمرے کے باہر دن کیا ہے

باہر سر سبز پہاڑیوں کا طعنہ ہے

باہر آدھی بارش ہو رہی ہے

بالوں میں کوئی گرہ نہیں رہتی

وقت رہتا ہے

کمرے کے اندر دن کیا ہیں

آواز مِلا کر کوئی صدا مت دینا

دیواروں پر چوری ہونے لگے

تو اس کا مطلب ہے

ہم دونوں محفوظ نہیں

ہوائیں زمین کی کنگھی کر رہی ہیں

۔






مصنف کے بارے میں


...

سارا شگفتہ

1954 - 1984 |


سارا شگفتہ




Comments