آنکھیں سانس لے رہی ہیں



اگر اُنگلی کاٹ کے سوال پُوچھا جائے گا

تو جواب بے پور ہوگا

گھر آؤ ! دیکھو انسان اور لہو آمنے سامنے کھڑے ہیں

کیا جواب دیں تمہیں یہ نچڑی دیواریں

جن کی اینٹیں زمین کے اندر دفن ہو چکی ہیں

تنہائیوں کی نوکیں میرے اعضاء میں پیوست کر دی گئی ہیں

پھر بھی کہتے ہو، آؤ باغ کو چلیں

میں اپنی آنکھوں پہ زندہ ہوں

میرے لب پتھر ہو چکے ہیں

اور کسی سنگ تراش نے ان کا مجسمہ

کسی پہاڑ کی چوٹی پر نصب کر دیا ہے

میں لہُو سے بیگانی ہوں

میرے جذبے اپاہج کر دیئے گئے ہیں

میں مکمل گفتگو نہیں کر سکتی

میں مکمل اُدھار ہوں

میری قبر کے چراغوں سے ہاتھ تاپنے والو

ٹھٹھرے وقت پر ایک دن میں بھی کانپی تھی

کاش آنکھیں آواز ہوتیں

زنگ کی دھار میرے لہُو میں رچ رہی ہے

بتاؤ ! تھوڑے پُھول دو گے

تیور زنگ آلود ہو چکے ہیں

میں نے کسی سے شاید وعدہ کر لیا تھا

مُسکراہٹ ہنسے گی تو آنکھیں ہنسیں گی

یہ تو لفظ کھڑکی کا پردہ ہوئے

لیکن دیوار کا پردہ نہ ہوسکے

رفتہ رفتہ پتھر میری گردن تک آ پہنچے ہیں

ڈر ہے کہیں میری آواز پتھر نہ ہوجائے

یہاں تو روز مجھے میری قبر سے اُکھاڑا جاتا ہے

کہ لوگ میری زندگی کے گُناہ گِن سکیں

یہاں تو میرے لہُو کی بوند بوند کو رنگا جا رہا ہے

لوگوں کی پُوریں انگارہ ہو رہی ہیں

میں کس سے ہاتھ مِلاؤں

کہ میری یاد کے ساتھ ہر ہر دل میں

ایک پتھر نصب کر دیا گیا ہے

میں نے نہیں کہا تھا

سُورج ہمیشہ میرے کپڑوں کا رنگ چُرا لے جاتا ہے

میرے قدم مجھے واپس کر دو

یہ اُدھار مہنگا ہے

میر دوکان چھوٹی ہے

جانے کون سی سڑک پہ ہم دوڑے تھے

میں پُوری مٹی میں چُھپ گئی

اور تم مٹی میں پانی چھڑکا کے

سوندھی سوندھی خوشبو اپنے جذبے میں لئے

اپنی زندگی کے دن بڑھا رہے ہو ۔۔۔۔

دیکھ تیرا چاند پتھر پہ لڑھک آیا ہے

اب کون سے چاند کو دیکھ کر

لوگ دعائیں مانگیں گے

میرا کفن زہریلے دھاگوں سے سیا جا رہا ہے

اورتم کہتے ہو

سفید لباس میں تم کتنی اچھی لگتی ہو ۔۔۔۔

میرے مقبرے پر تُھوکنے والے

جب کورے کاغذ کو آگ رنگتی ہے

مجھے کیوں بھول جاتے ہو ۔۔۔۔

جب انگارے شاخوں کو یاد کرتے ہیں

تو تم اپنے آتش دان روشن کر لیتے ہو ۔۔۔۔

دیکھ ! میں مٹی میں سمٹی جا رہی ہوں

پھر تجھ سے ہاتھ مِلانے کی خواہش آنکھوں تک آ جائے گی

تم مٹی اُکھاڑو گے

ایک پرندے کی لاش نکلے گی

جسے کسی بچے نے انتہائی محبت سے دفن کیا ہوگا

تم پِھر مٹی اُکھاڑو گے

میں مٹی میں لیٹی ایک دِن تمہیں مِل جاؤں گی 

اور تمہیں اپنی آنکھوں میں دفن کر لوں گی

تم پِھر مٹی اُکھاڑو گے

اور مٹی کی لکیر کبھی بھی نہیں مرتی

شاخوں کو کاندھا دیتے ہوئے لوگ

میرے سفید لباس پہ پُھول رکھنے والے لوگ

میرے اعضاء میں کاندھا بدل رہے ہیں

میرے لہُو میں دوڑنے والے

تیرے قدم پھسل رہے ہیں

شاید زمین دو شاخہ ہو گئی ہے

یا دُکھ اور سُکھ میں ہماری آواز رنگ دی گئی ہے

میں آہستہ دیکھا کروں گی

کہ وقت کی پیشانی کے تیور گن سکوں

میں آہستہ سویا کروں گی

کہ نیند میری زندگی کو بھگا کر نہ لے جائے

میں آہستہ رویا کروں گی

کہ آنسو اور آواز انسان کو مکروہ نہ کر سکیں

میں مٹی پہ آہستہ قدم رکھوں گی

کہ مٹی میں میرے دُکھ پیوست نہ ہو سکیں

کاش انتقال کرنے سے پہلے

میں اپنا دل کہیں بو سکتی

خُدا نے کاش اعضاء بونے کی اجازت دی ہوتی

شاید میں اپنا دل کہیں بو چکی ہوں

سینہ محبت کرنے والوں کی پہلے قبریں تیار کرتا ہے

پھر ایک دُوسرے کے سینے میں 

کُھدی ہوئی قبر میں دفن کر دیئے جاتے ہیں

آنکھوں کے اسباب کسی قُلی کو تھما دیئے جاتے ہیں

چوراہے پہ بنائے ہوئے مُجسمے کو نظر انداز کرتے ہوئے لوگ

انہیں کیا خبر

جس کا مجسمہ نصب کر دیا گیا ہے

وہ زندہ ہے یا مُردہ

میں نے دروازے کو نگاہ کیا

دروازے نے مجھے نگاہ کیا

گھر سے مت جانا

آج ہواؤں کو در اصل پاگل کُتے نے کاٹ لیا ہے

مُسافروں سے اپنی ساری زندگی کی باتیں مت کرو

جانے کون سے سنگِ میل پہ پلک جھپک جاؤں

میرے آنگن میں جتنی دُھوپ تھی

اُس سے میں نے تمہارے کپڑے سُکھا دیئے

میرا گھر پانیوں سے بنا دو

کہ روانی میری رُوح ہے

آج میں تم سے ننگی باتیں کروں

کہ میرے بچپن کے لباس چھوٹے ہو گئے ہیں

 






مصنف کے بارے میں


...

سارا شگفتہ

1954 - 1984 |


سارا شگفتہ




Comments