آنکھیں دو جُڑواں بہنیں



جب ہمارے گُناہوں پہ وقت اُترے گا

بندے کھرے ہو جائیں گے

پھر ہم توبہ کے ٹانکوں سے

خُدا کا لباس سیئیں گے

تُم نے سمندر رہن رکھ چھوڑا

اور گھونسلوں سے چُرایا ہوا سونا

بچے کے پہلے دن پہ مَل دیا گیا

تُم دُکھ کو پیوند کرنا

میرے پاس اُدھار زیادہ ہے اور دوکان کم

آنکھیں دو جُڑواں بہنیں

ایک میرے گھر بیاہی گئی دُوسری تیرے گھر

ہاتھ دو سوتیلے بھائی

جنھوں نے آگ میں پڑاؤ ڈال رکھا ہے






مصنف کے بارے میں


...

سارا شگفتہ

1954 - 1984 |


سارا شگفتہ




Comments