آنکھوں کے دھاگے



میں جو چوراہے پہ کھڑی

اپنی کمان کی طرف لوٹنا چاہتی ہوں

وہ جو لہو میں پھنسا

کچھ اور جینا چاہتا ہے

سایہ جیسے کسی دیوار کے ساتھ شامل ہو گیا ہو

پانیوں میں جیسے الم ٹھنڈے ہو رہے ہوں

تم کہ شام کے سُورج سے دُھوپ چُراتے ہو

میں کہ صُبح کی رات بھی چُرا لیتی ہوں

اور تھکا ماندہ صبح کا تارہ

جب سارے آسمان پہ اکیلا ہوتا ہے

اُسی وقت کی قدر کرتی ہوں

تو دھرتی کا ایک دن

میری عمر کا ایک حصہ کاٹ ڈالتا ہے






مصنف کے بارے میں


...

سارا شگفتہ

1954 - 1984 |


سارا شگفتہ




Comments