"نظم کو طول مت دینا"




دھیان رکھنا 
خود پہ گزرتے ہوئے عذاب جیسے لمحوں کو قلم بند کرتے ہوئے 
معمولی بات نہ کرنا 

دھیان رکھنا!! 
پیدائشی دن سے لے کر آج تک کے 
اپنے سارے جذبات و احساسات 
اور انہیں سے ملے جلے شعروں میں پنہاں کیفیات کو 
آنے والے دنوں میں

ایک حد میں لکھنا 
ایک حد میں بات کرنا 

کیوں کہ 
زیادہ بات کرنے سے
 زیادہ لکھنے سے
 انسان خالی ہو جاتا ہے 
اس کے بعد ایک ہی فصیل دکھائی دیتی ہے 
"موت کی فصیل"

اسامہ امیر 





مصنف کے بارے میں


...

اسامہ امیر

1998 - | کراچی


اسامہ امیر شیخ 6 اپریل 1998 کو کراچی میں پیدا ہوئے میٹرک 2015 میں گڈ زون گرائمر اسکول کراچی سے کیا۔ ایف ۔ اے کے طالبِ علم ہیں شاعری کا آغاز 2014 میں کیا فیس بک پہ پاک و ہند کی نوجوان نسل کا غیر مطبوعہ کلام کے نام سے ایک پلیٹ فارم چلا رہے ہیں




Comments