"سینٹر کی آخری شام"




اسٹیج پر ایک لڑکا گانا گا رہا تھا
تم مرے برابر میں تھی 
دونوں کے ہاتھ ٹکرا رہے تھے 
مجھے اس دن تمھارے لمس کی مہک نے آ لیا تھا 
نہ جانے کیوں مری نگاہیں نیچی ہوئی 
تمھارے پیروں کی طرف
تم نے مونا لیزا کی سینڈل پہنی ہوئی تھی 
اچانک مری نگاہ تمھارے ہونٹوں پر پڑی تھی
اور لائٹ چلی گئی تھی 
مگر تمھارے ہونٹ 
اندھیرے میں چمک رہے تھے 

تمہیں یاد ہے؟ 
میں نے ایک بات کہیں تھی 
تمھارے ہونٹ خدا کا ایسا شاہکار ہیں 
جنہیں چومنے سے 
طبعیت کسی پرانی فلم کی طرح سدا بہار رہے گی ------
تم شرماتے ہوئے مجھ سے دور ہو گئیں تھی
پرانی فلموں کی ہیروئن کی طرح 
ایک خواہش تھی مجھے ،
میرے بے حد اسرار پر 
تم نے ڈرتے ہوئے
وعدہ کر لیا تھا 
اور کہا تھا 

سنو!!! 
جاتے جاتے 
کسی ایسے موڑ پر 
مجھ سے ملنا 
جہاں میں بھی نہ ہوں 
اور نہ ہی تم ،
ہونٹوں کے درمیان
ہَوا کا بھی گزر نہ ہو 
میں آخری بوسہ دوں گی 
پھر اس کے بعد
 کبھی ریڈ لپ اسٹک نہیں لگاؤں گی!!!! 





مصنف کے بارے میں


...

اسامہ امیر

1998 - | کراچی


اسامہ امیر شیخ 6 اپریل 1998 کو کراچی میں پیدا ہوئے میٹرک 2015 میں گڈ زون گرائمر اسکول کراچی سے کیا۔ ایف ۔ اے کے طالبِ علم ہیں شاعری کا آغاز 2014 میں کیا فیس بک پہ پاک و ہند کی نوجوان نسل کا غیر مطبوعہ کلام کے نام سے ایک پلیٹ فارم چلا رہے ہیں




Comments