"ایک رات جسے انی ہے"



"ایک رات جسے آنی ہے"

صبح مرے مقدر کی روز پھوٹتی ہے،
 میں اور صبح
اپنے اپنے مقاصد میں کام یاب نظر آتے ہیں 
میں ڈورتا بھاگتا روزگار کی تلاش میں
ہلکان کرتا وجود بستر کی طرف نہیں لے جا سکتا،

صبح لوگوں میں دھوپ تقسیم کرتے کرتے
 بہ وقتِ شام بستر پہ لیٹ جاتی ہے 
نہ جانے یہ کون سی صبح ہے؟

ایک صبح میری ہے
جو مجھے ہلکان کرتی ہے
 اور ہلکان ہی کرتی ہے،
حتی کہ بستر تک فراہم نہیں کرتی،

کچھ روز سے میں
صبح سے بیزار
ایک ایسی رات کی تلاش میں نکل پڑا ہوں جس کو پانے سے
 مجھے بستر مل سکتا ہے 
اور مرا یقین ہے 
وہ رات مرے نصیب میں ہے 
"میں گہری نیند سو جاؤں گا"

اسامہ امیر





مصنف کے بارے میں


...

اسامہ امیر

1998 - | کراچی


اسامہ امیر شیخ 6 اپریل 1998 کو کراچی میں پیدا ہوئے میٹرک 2015 میں گڈ زون گرائمر اسکول کراچی سے کیا۔ ایف ۔ اے کے طالبِ علم ہیں شاعری کا آغاز 2014 میں کیا فیس بک پہ پاک و ہند کی نوجوان نسل کا غیر مطبوعہ کلام کے نام سے ایک پلیٹ فارم چلا رہے ہیں




Comments