"افسوس"



"افسوس"

آئینے کے سامنے 
اپنی عریانی کو 
ایک نظم 
زرد پتوں کو شال سے ڈھانپ رہی تھی
مگر ناکام رہی
تیز ہوا کا گرم جھونکا 
سارے پتے
 اپنے ساتھ اڑا لے گیا 

یہ وہی نظم ہے
جسے کھولنے کے لئے 
قاری کو کئی طرح کے جتن کرنے پڑتے تھے 

مگر آج 
آئینے کے سامنے 
چاک ہوئی 
بے سدھ کھڑی 
اپنے ہاتھوں سے 
بدن چھپانے کی ناکام کوشش میں 
خود کشی کر گئی 

اسامہ امیر





مصنف کے بارے میں


...

اسامہ امیر

1998 - | کراچی


اسامہ امیر شیخ 6 اپریل 1998 کو کراچی میں پیدا ہوئے میٹرک 2015 میں گڈ زون گرائمر اسکول کراچی سے کیا۔ ایف ۔ اے کے طالبِ علم ہیں شاعری کا آغاز 2014 میں کیا فیس بک پہ پاک و ہند کی نوجوان نسل کا غیر مطبوعہ کلام کے نام سے ایک پلیٹ فارم چلا رہے ہیں




Comments