سلام



جانی شکست ھے نہ یہ مالی شکست ھے ثناءاللہ ظہیر


جو ذکرِ شہاں لفظ و معانی میں رہے گا علی اصغر عباس


حسین آج بھی تنہا دکھائی دیتا ہے شمشیر حیدر


کربلا کا رخ کیا جب شاہ ِِ عالمگیر نے ذوالفقار نقوی


سنبلِ تر ہے پریشاں زلفِ اکبر دیکھ کر میر انیس


زباں پر مدح ہے باغِ علی کے نونہالوں کی میر انیس


نمود و بود کو عاقل حباب سمجھے ہیں میر انیس


ابتدا سے ہم ضعیف و ناتواں پیدا ہوئے میر انیس


کوئی انیس، کوئی آشنا نہیں رکھتے میر انیس


چہلم ہے آج سرورِ عالی مقام کا میر انیس


خوشا زمینِ معلیٰ، زہے فضائے نجف میر انیس


تب ظالموں نے خیمۂ اقدس جلا دیا میر انیس


سبطِ نبی کے سینے پہ قاتل سوار ہے میر انیس


زرد چہرہ ہے نحیف و زار ہوں میر انیس


آ کے جو بزمِ عزا میں رو گئے میر انیس


مرا رازِ دل آشکارا نہیں میر انیس


جز پنجتن کسی سے تولّا نہ چاہیے میر انیس


رنجِ دُنیا سے کبھی چشم اپنی نم رکھتے نہیں میر انیس


سدا ہے فکر ترقی بلند بینوں کو میر انیس


پڑا جو عکس تو ذرہ بھی آفتاب بنا میر انیس


نہ منصب سے غرض، نے خواہشِ جاگیر رکھتے ہیں میر انیس


حسین ابن علی عقیل ملک


سلام عقیل ملک


سلام بہ کربلا خالد علیم


مرے حسین کا عالم میں مرتبہ ہے بلند اسامہ امیر


اٹھتا ہے برابر آہ کا غل، سب قریے رنج کے مارے ہیں احمد جہاں گیر


شعر آئے وزن میں، جو کروں شاہِ دیں کی بات احمد جہاں گیر


مرشد چراغِ خیمہِ رحمت بجھائے گا احمد جہاں گیر


جلنے لگے چراغ مدینے کے شام سے احمد جہاں گیر


شبیر (ع )میرے سینے میں دلگیر تیرا غم احمد عرفان


کیوں نہیں آئی قیامت ہائے ہائے کربلا اسامہ امیر


نہ ہو وہ غم تو تگ و تاز میں نہیں آتا احسان اصغر


یہی وہ دن ہیں کہ ہر شام شامِ گریہ ہے احسان اصغر


بجناب امام حسن علیہ السلام خالد احمد


بجناب امام زین العابدین علیہ السلام خالد احمد


بجناب بی بی فاطمۃ الزہرا سلام ﷲ علیہا خالد احمد


بجناب امام عالی مقام علیہ السلام خالد احمد


باقی رہتی ہے سچائی، سچائی کا سراغ دانیال طریر