غزل



کہ ہم پرندے مقاماتِ گُم شدہ کے ہیں منچندا بانی


ایک ہُوئے رفتگاں اور میں منچندا بانی


پاؤں میں زنجیر ڈالوں گا تو سر لے جائے گا منچندا بانی


عجیب رونا سِسکنا نواحِ جاں میں ہے منچندا بانی


خاک و خوں کی وسعتوں سے باخبر کرتی ہوئی منچندا بانی


پیہم موجِ امکانی میں منچندا بانی


خواب میں کوئی خبر رکھ دینا منچندا بانی


بس کہ ہیں منظر کا حصہ، لاکھ تنہا جاگیے منچندا بانی


ڈھونڈ پرندے گھر میرا منچندا بانی


تمام راستہ پھُولوں بھرا ہے میرے لیے منچندا بانی


نظر کے سامنے منظر ہے بے کرانی کا منچندا بانی


ہری، سُنہری خاک اُڑانے والا مَیں منچندا بانی


زخموں کو اب گنوں گا میں بستر پہ لیٹ کے شکیب جلالی


جتنے اس پیڑ کے پھل تھے ، پسِ دیوار گرے شکیب جلالی


اپنے ہی اک خیال کا پیکر لگا مجھے شکیب جلالی


مری طرح سے اکیلا دکھائی دیتا ہے شکیب جلالی


بقدرِ ظرف ہر اک آدمی سمندر ہے شکیب جلالی


اونچی ہوں فصیلیں تو ہوا تک نہیں آتی شکیب جلالی


میں شاخ سے اڑا تھا ستاروں کی آس میں شکیب جلالی


دوستو پانی کبھی رکتا نہیں ڈھلوان پر شکیب جلالی


بہتر ہے خاک ڈالیے ایسی اڑان پر شکیب جلالی


میں اس گلی میں اکیلا تھا اور سائے بہت شکیب جلالی


وہی جھکی ہوئی بیلیں، وہی دریچہ تھا شکیب جلالی


پتھر کے پیرہن سے سراپا نکالیے شکیب جلالی


تمام جلنا جلانا فسانہ ہوتا ہو عرفان صدیقی