غزل



کیسے انہیں بھلاؤں محبت جنہوں نے کی احمد مشتاق


کہ تھرتھری سی عجب جسم و جاں میں رہتی ہے احمد مشتاق


وہ اسی شہر کی گلیوں میں کہیں رہتا ہے احمد مشتاق


مل ہی آتے ہیں اسے ایسا بھی کیا ہوجائے گا احمد مشتاق


زندگی سے ایک دن موسم خفا ہوجائیں گے احمد مشتاق


یہ شہر تو مجھے جلتا دکھائی دیتا ہے احمد مشتاق


بجھے ٹکڑے پڑے ہیں سگریٹوں کے راکھ دانوں میں احمد مشتاق


انہیں کیسے بتائیں ہم کہ وہ کیسے لگے ہم کو احمد مشتاق


ان موسموں میں ناچتے گاتے رہیں گے ہم احمد مشتاق


کتنا بُعد ہے میرے فن اور پیشے کے مابین تنویرسپرا


غموں کی دھوپ میں برگد کی چھاؤں جیسی ہے تنویرسپرا


بیٹے کو سزا دے کے عجب حال ہوا ہے​ تنویرسپرا


چھت کی کڑیاں جانچ لے دیوار و در کو دیکھ لے تنویرسپرا


شیشے دلوں کے گردِ تعصّب سے اٹ گئے تنویرسپرا


لوگ ہلالِ شام سے بڑھ کر، پَل میں ماہِ تمام ہوئے ابنِ انشا


دیکھ ہمارے ماتھے پر، یہ دَشتِ طلب کی دُھول میاں ابنِ انشا


شاملِ نقشِ کارواں ہیں ہم شہزاد احمد


مَیں مُشتِ خاک ہوں مجھ کو کہیں اُڑا لے جا شہزاد احمد


جو ڈوبنا ہے تو پھر تیرے نام پر ہی سہی شہزاد احمد


اب نہ وہ شور نہ وہ شور مچانے والے شہزاد احمد


سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ دل کی خو کیا تھی شہزاد احمد


اب خاک اُڑانے کو بیٹھے ہیں تماشائی شہزاد احمد


وہ جو چپ چاپ کھڑا ہے ترا کیا لگتا ہے شہزاد احمد


آگہی میں اک خلا موجود ہے عبدالحمید عدم


گیسوئوں کی ہوا نہ دے جانا عبدالحمید عدم