غزل



ترا غم ایک سا رہتا ہے گو ہر دم بدلتا ہے فراق گورکھپوری


ہجومِ یاس میں سوزِ نہاں بھی یاد آتا ہے فراق گورکھپوری


کچھ وہ اثرِ بادہ سے لہرائے ہوئے ہیں فراق گورکھپوری


کچھ بھی عیاں نہاں نہ تھا کوئی زماں مکاں نہ تھا فراق گورکھپوری


رات آدھی سے زیادہ گئی تھی سارا عالم سوتا تھا فراق گورکھپوری


کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی فراق گورکھپوری


کیا راہ ہے راہ محبت کی سانس آتے آتے ٹوٹ گئی فراق گورکھپوری


رکی رکی سی شب مرگ ختم پر آئی فراق گورکھپوری


لپٹی ہوئی قدموں سے ہے وہ راہ گزر بھی فراق گورکھپوری


ترے وحشی بھری دنیا کو ویرانہ سمجھتے ہیں فراق گورکھپوری


عشق کی مایوسیوں میں سوز پنہاں کچھ نہیں فراق گورکھپوری


سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں فراق گورکھپوری


بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں فراق گورکھپوری


اب اکثر چپ چپ سے رہیں ہیں یوں ہی کبھو لب کھولیں گے فراق گورکھپوری


شام غم کچھ اس نگاہ ناز کی باتیں کرو فراق گورکھپوری


تم ہو جہاں کے شاید میں بھی وہاں رہا ہوں فراق گورکھپوری


ایک عالم پہ نار ہیں ہم لوگ فراق گورکھپوری


عشق فسردہ ہی رہا غم نے جلا دیا تو کیا فراق گورکھپوری


یہ نرم نرم ہوا جھلملا رہے ہیں چراغ فراق گورکھپوری


آج بھی قافلہ عشق رواں ہے کہ جو تھا فراق گورکھپوری


نگاہِ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا فراق گورکھپوری


سر میں سودا بھی نہیں، دل میں تمنّا بھی نہیں فراق گورکھپوری


بے یار روزِعید، شبِ غَم سے کم نہیں محمد ابراہیم ذوق


اگر انسان ہوں، دنیا کو حیراں کر کے چھوڑوں گا جوش ملیح آبادی


سرشار ہوں، سرشار ہے دنیا مرے آگے جوش ملیح آبادی