غزل



ہاں میں اقرار کرتا ہوں کہ ہر تیسرا فرد ہے جانشیں میرا ۔ علی رضا تاج


سوچتی تھی جو میں وہی نِکلی گل حوریہ


سامنے اور نہ دھیان میں تم ھو گل حوریہ


رنج سارے اُٹھا لیے صاحب گل حوریہ


غم کے اسباب کا زمانہ نئیں گل حوریہ


یہ ہنر سب کو ہی عطا ھوا تھا گل حوریہ


تیرے ہونے سے با خُدا لگی ھے گل حوریہ


گُنگناتی ھوں اور دیکھتی ھوں گل حوریہ


خواہشوں کا گلا دباتے نئیں گل حوریہ


مجھ پر گزرے لمحوں میں سے کر دو بس اک لمحہ کم ضیاء مذکور


یہ ٹوٹی کرسیاں کب تک سجا کے گھر رکھتا رحمان راجہ


سفر میں کب کسی رہگیر سے مقابلہ ہے شاہزیب خان


خود پرندہ اتار پر بیٹھے ارسلان احمد


بسی ہے فکر یوں عرشِ بریں پر ذوالفقار نقوی


ہر گماں کو یقیں بناتے ہیں انصر احمد بلاول


کئی دنوں تک نظر میں رہنے پہ ہاں کرے گی نادر عریض


یہ تو ہونٹوں کو گنہگار کیا ہے نادر عریض


وقت دیتا تھا وہ ملنے کا۔ تبھی رکھی تھی نادر عریض


ہدف پہ اتنے سلیقے سے وار کرتے ہیں نادر عریض


نئے مجرم ہیں۔ پرانوں کی طرف دیکھتے ہیں نادر عریض


تمام شہر کو حلیہ بتا دیا گیا ہے نادر عریض


کسی چراغ کو تو زادِ راہ کرنا تھا ارسلان احمد


دشت۔ غم میں مسکرانے والا سردار ایش احمد


چاک دامن سلا نہیں کرتے سردار ایش احمد


بڑے گھر کو ثمود و عاد سے جوڑا نہ جائے ارسلان احمد