سکوت۔۔۔۔۔مظہر حسین سید






Download Book
غزل کا راستہ ایک پامال راستہ ہے ۔ ہر نئے غزل گو کو اپنا نیا پن اپنے ساتھ لانا ہوتا ہے ورنہ اُس کی آواز صدیوں کے انبار میں دب کر رہ جاتی ہے ۔ سمندر میں اترنے والا قطرہ اگر گوہر نہ بن سکے تو موجوں میں تحلیل ہو جاتا ہے ۔ مظہر حسین سیّد نے جادہء غزل پر کامیابی سے اپنا آپ برقرار رکھا ہے اور دکھایا ہے کہ روایت سے رشتہ توڑے بغیر اور زبان و اسلوب میں توڑ پھوڑ کیے بغیر بھی کوئی آواز فرسودگی کے زنگ سے پاک رہ سکتی ہے ۔ نیز یہ کہ جدّت وجود میں ہوتی ہے نہ کہ لباس میں ۔ اُس کی کھینچی ہوئی قوس اپنے خم سے باہر آتے ہی نئے خطوط پر نکل جاتی ہے کیونکہ اس کی رائے میں زندگی دائرہ نہیں ہوتی ۔ مظہر حسین سیّد خاک میں خواب ملانے کا ہنر جانتا ہے اور اُسے اُس حسنِ بیاں سے وافر حصہ ملا ہے جو بیانِ حسن کے لیے ضروری ہے ۔ اُس کا مسلکِ فن اس مجموعے کے اوّلین شعر سے نمایا ں ہے : شجر کلام کریں شہر بھی نیا ہو جائے میں ایک اسم پڑھوں اور معجزہ ہو جائے خورشید رضوی





مصنف کے بارے میں


...

مظہر حسین سیّد

01-07-1977 - | Wah Cantt


مظہر حسین سید صرف ایک بہت اچھا شاعر ہی نہیں ایک بہت اچھا انسان بھی ہے۔ مظہر حسین سید ایک سچے اور کھرے انسان اور شاعر کی حیثیت سے دوستوں اور دشمنوں دونوں میں جانا جاتا ہے۔ مظہر حسین سید کی اور خاصیت یہ ہے کہ یہ شخص ایک لمبے عرصے سے جونئیرز سے تعاون اور انکی تعلیم و تربیت کے لیے کمر بستہ رہتا ہے۔ شائد ہی واہ کینٹ، ٹیکسلا اور حسن ابدال کا کوئی جونئیر ہو جس کو مظہر سید سے کوئی شکایت ہو۔ مظہر حسین سید خود بھی ایک جینوئن شاعر ہے اور جینوئن ادیبوں کو پسند کرنے والا بھی ہے۔ مظہر حسین سید کی شاعری اور نثر پچھلے ایک عشرے سے اپنا الگ رنگ لیے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائے ہوئے ہے۔ یہ ہم لوگوں میں سے شائد واحد ادیب ہے جس نے کبھی اپنی پروموشن اور سیلف پروجیکشن کے لیے کچھ نہیں کیا۔ مظہر حسین سید کی شاعری اس کے سچے جذبوں اور غیر متعصب مطالعے کی مظہر ہے۔ تخلیقی وفور مثالی ہے۔ مظہر سید کا یہ اشعار ہی دیکھ لیجیے، یہ احتجاج تھا اس شہر کی فضا کے خلاف کسی درخت پہ کوئی ثمر نہیں آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیان ِ حسن کو حسن ِ بیاں ضروری ہے کمال ِ فن بھی ہے لازم جمال ِ یار کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔ خطِ شکستہ سے کچھ ریت پر لکھا ہوا تھا جو میں نے غور سے دیکھا تو گھر لکھا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔ مرے شعور کو اس طرح ورغلایا گیا کوئی وجود نہیں تھا مگر دکھایا گیا (تحریر : شاہجہاں سالف)




Comments