دھنک دھوئیں سے اُٹھی






Download Book
"شاہد ذکی جدید غزل کا اہم حوالہ ہےـ جدیدیت نے متن اور ہئیت کو روایتی طرز اظہار سے الگ کر کے دیکھنے کی جو سعی کی اس کی مکمل تصویر اُس غزل کا اختصاص ہے جو شاہد ذکی کے شعری اظہار میں موجود ہےـ ان کے ہاں تمثالی انداز قاری کو شاعر کے تجربے سے ہم آہنگ دیتا ہےـ اس تعمیری تجربے کے انکشاف سے ایک قاری اپنے عہد کے اس منظر نامے سے متصل ہوجاتا ہے جسے عمومی سطح پر توجہ حاصل نہیں ہوتی ـ شاہد ذکی نے اپنی شاعری کا جو مدار قائم کیا اس مدار میں کے اندر داخل ہونے والا ہر قاری اپنے خوابیدہ احساسات کو انگڑائیاں لیتے دیکھتا ہے ـ ان کی تلازماتی تمثال بندی کو گرفت میں لینے کے لیے شدید توجہ کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ـ شاہد ذکی کے شعر کی بالائی پرت بہت سادہ دکھائی دیتی ہے اور اس پرت کے متوازی جو غنائی نظام سفر کرتا ہے وہ بہت خواب ناک ہے کیوں کہ سادگی اور غنائی نظام کی موجودگی قاری کو ہپناٹائز کر دیتی ہے جس کی وجہ سے بہت عرصے تک شاہد ذکی کے شعر کی اس پرت تک پہنچنے کی طرف توجہ ہی نہیں کرتا جو دراصل ان کی شاعری کا جوہر ہے ـ شاہد ذکی کی غزل میں کیفیاتی توسیع کے ساتھ لفظیاتی توسیع کے لیے جو راستہ بنتا ہے وہ غزل کی بنیادی ہیت اور غزل کے عمومی مزاج سے کلی بغاوت کی بجائے روایت کے ایسے شعور کے ساتھ سامنے آتا ہے جو بذاتِ خود غزل کی زندگی اور اس کے تنفس کا ضامن سمجھا جاتا ہے ۔اس کی غزل مشاہدہ کی خارجی تصویر میں دروں بینی اور جہاں بینی کو اکٹھا کرتی ہے اور اس سلیقے سے اپنی پیشکش کرتی ہے کہ کوئی بھی سنجیدہ قاری شاعری کی تخلیقی و تخئیلی قوت سے استفادہ کر کے اپنی ذہنی و فکری تربیت کا سامان پیدا کر سکتا ہے وہ اس عامیانہ غزل کے منہ پر طمانچہ ہے جس کی ترکیب و تخلیق مشاعرہ بازی اور تیسرے درجے کے سامعین کے ذوقِ شعری کی مرہونِ منت ہوتی ہے ۔وہ غزل کی اس روایت سے کوسوں دور ہے جس کی پرورش و پرداخت کا عمل کمرشل اور ملٹی نیشنل رنگوں کی لمحاتی اور فیشن زدہ فضا میں پروان چڑھتا ہے ایک اور اہم بات جو مابعد جدید عہد کی غزل میں عموما ملتی ہے کہ تنہائی کا عالمگیر احساس بے معنویت ،بے سمتی اور بے ترسیلی کا روپ اختیار کر لیتا ہے اور یہ روپ تخلیق میں جھنجلاہٹ اور کھردرے پن کا لباس پہن لیتا ہے مگر شاہد ذکی کے ہاں تنہائی انسان کے گمشدہ ایقان اور خود انحصاری کی بازیافت کا ذریعہ بن کر سامنے آتی ہے ۔وہ مابعد جدید عہد کی پیچیدگی کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیتا اور اس سے مسلسل مزاحمت کی راہ چنتا ہے کولاج کی ابتدا سے لے کر اب تک ادارے کی یہ کوشش رہی ہے کہ سنجیدہ اور معیاری ادب کے فروغ کی ہر ممکن کوشش کی جائے شاہد ذکی کی کتاب چھاپنے سے مقصود ایک اعلٰی اور اہم شاعر کے فن کا اعتراف ہے " ادارہ کولاج برائے رابطہ 03315657493 03129890567





Comments