برطانیہ میں اردو اور حبیب حیدرآبادی






Download Book
برطانیہ میں اردو اور حبیب حیدرآبادی ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی کی تحقیقی و تنقیدی تصنیف ہے۔ جس میں برطانیہ میں اردو کی ترقی اور وہاں فروغ اردو کے لئے کام کرنے والے حبیب حیدرآبادی کی علمی و ادبی خدمات کو اجاگر کیا گیا ہے۔





مصنف کے بارے میں


...

ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی

13-12-1969 - | NIZAMABAD Telangana State India


ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی دینی مدرسے سے ڈاکٹریٹ اور صدرشعبہ اردو تک سفر محمد محبوب لیکچر اردو گونمنٹ ڈگری کالج ظہیر آباد ۔ تلنگانہ ؂مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں ۔۔۔۔۔تب خاک کے پردے سے انساں نکلتے ہیں میرتقی میرؔ نے یہ شعر ہر زمانے میں اس دنیا میں پیدا ہونے والی چند نابغہ روزگار شخصیات کے بارے میں کہاتھا۔ یہ وہ شخصیات ہوتی ہیں جن کے علم و فضل اور کارناموں سے دنیا فیضیاب ہوتی ہے۔یہ دنیا کا قانون ہے کہ جب کوئی نابغہ روزگار شخصیت دنیا سے گذر جاتی ہے تو اس کے خلا کو کوئی دوسریشخصیت پُر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ نئی نسل پرانی نسلوں کی وراثت کو آگے بڑھاتی ہے۔آج بھی ہمارے سماج اور معاشرے میں ایسے نوجوان ہیں جن کی علمی قابلیت اور اُن کے کارنامے اس قابل ہیں کہ وہ اپنے ورثا کے کارناموں کو آگے بڑھاسکیں ۔میرؔ کے مذکور ہ بالا شعر کے حوالے سے قارئین کو ایک ایسی نوجوان شخصیت سے متعارف کرانے کا موقع مل رہا ہے جو دینی مدرسے کے فارغ ہیں لیکن انہوں نے دنیاوی تعلیم کے اعلی مدارج طے کئے اردو میں ڈاکٹر یٹ کی ڈگری حاصل کی اور اب محکمہ تعلیمات کے گزیٹڈ عہدے پر فائز ہیں۔ اور اپنی علمی قابلیت اور لیاقت سے تشنگان علم کے پیاس بجھا رہے ہیں۔ان کے بے شمار علمی کارناموں کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ وہ آج کی اس ہر لحاظ سے سیہ دنیا میں اجالوں کے نقیب ہیں۔ اس تمہید کے ساتھ جس قابل نوجوان کا تعارف پیش کیا جا رہا ہے وہ ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی ہیں۔ ان کی سب سے باوقار سند ان کا حافظ قران ہونا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اس بات کو غلط ثابت کیا کہ دینی مدرسے کے طلباء دنیاوی تعلیم حاصل نہیں کرتے ۔چنانچہ انہوں نے حفظ قران کی تکمیل کے بعد گریجویشن ‘پوسٹ گریجویشن اور ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔پبلک سرویس کمیشن سے لیکچرر شپ کا امتحان کامیاب کیا۔اور اب ان دنوں گری راج گورنمنٹ کالج نظام آباد میں لکچرر اور صدر شعبہ اردو کے عہدے پر فائز ہیں ۔ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی ایک مثالی استاذ‘طلباء کے لئے ایک ہمدرد اور شفیق دوست او رہبر‘اردو کے اُبھرتے ادیب اور نقاد ہیں۔کیرئیر گائڈنس کے تحت مختلف مسابقتی امتحانات میں طلباء کی رہنمائی کرتے ہیں۔ان کے مختصر حالات زندگی اور علمی ادبی اور سماجی کارنامے اس لئے پیش کئے جارہے ہیں کہ ان کی شخصیت سے دیگر نوجوان بھی اثر لیں اور اپنی زندگی کی راہ میں ترقی کریں۔ ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی 13دسمبر 1969 ؁ ء کو نظام آباد کے ایک متوسط علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ دادا اسماعیل فاروقی اور نانا سید داؤد رحمٰن نظام آباد کی معروف شخصیات تھیں۔ان کے والد محمد ایوب فاروقی صابرؔ ایمپلائمنٹ آفیسر کے عہدے پر فائز رہے۔ وہ ایک اچھے سنجیدہ شاعر اور ادیب ہیں۔ ان کا شعری مجموعہ’’ آخر شب کے ہمنشین‘‘ادبی حلقوں میں کافی مقبول ہوا۔محمد اسلم فاروقی کی ابتدائی تعلیم نظام آباد کے مشہور اردو میڈیم اسکولوں آغا خان (گولڈن جوبلی) اسکول اور قلعہ گورنمنٹ ہائی اسکول میں ہوئی۔ 1985 ؁ء میں انہوں نے میٹرک کا امتحان درجہ اول میں کامیاب کیا ۔اور ضلع نظام آباد میں سر فہرست رہے جس پر وہاں کی انجمنوں نے انہیں ایوارڈ دیا۔آغا خان اسکول کے ان کے اساتذہ میں جناب رشیدصاحب‘جناب مظہر فاروقی صاحب ‘جناب یعقوب صاحب ‘جناب جبار صاحب‘جناب ماجد صاحب‘جناب فہیم صاحب‘میمونہ ٹیچر‘حبیبہ ٹیچر‘نکہت ٹیچر اور اقبال ٹیچر شامل تھے۔جب کہ ان کے ہائی اسکول کے اساتذہ میں جناب قادر صاحب‘جناب نجم الدین صاحب‘جناب معز صاحب‘جناب غفار صاحب‘جناب افتخار صاحب اور محترمہ شمیم سلطانہ صاحبہ شامل تھیں۔محمد اسلم فاروقی نے نظام آباد کے مشہور عالم دین حافظ عرفان احمد کے قائم کردہ مدرسہ حفاظ سے حفظ قران کی تعلیم کا آغاز کیا۔اور پھر اعلی تعلیم کی غرض سے حیدر آباد منتقل ہوگئے۔ جہاں انہوں نے حیدرآباد کے مشہور عالم دین اور بزرگ شخصیت مولانا جمال الرحمٰن مفتاحی کے زیر نگرانی مدرسہ روضۃ العلوم ٹولی چوکی سے حفظ قرآن کی تکمیل کی۔ اپنے استاد کے ساتھ شمالی ہند کے دینی مدارس کا دورہ کیا ۔ اور مظاہر العلوم سہارنپور‘دارالعلوم دیو بند اور دیگر مدارس کا دورہ کیا۔ اس دوران دور قران کے لئے وہ کچھ عرصے حضرت شاہ ابرارالحق صاحب دامت برکاتہ کے شہر ہ آفاق دینی مدرسے اشرف المدارس ہردوئی ضلع یو پی میں بھی رہے اور وہاں تجوید قران کی تعلیم حاصل کی۔ اس موقع پر انہیں حضرت شاہ ابرارالحق صاحب دامت برکاتہ کی علمی مجالس سے استفادے کا موقع بھی ملا۔حیدر آباد واپسی کے بعد اپنے والد کے مشورے پر کہ دینی مدرسے کے طالب علم کو دنیاوی علوم بھی حاصل کرنے چاہئیں‘ انٹر میڈیٹ کا امتحان کامیاب کیا۔ اور اورینٹل ایوننگ کالج وجے نگر کالونی سے بی اے کامیاب کیا۔ اس دوران یونیورسٹی آف حیدر آباد کے ادبی مقابلوں میں حصہ لیا اور مزاحیہ مضمون نویسی مقابلے میں انعام اول حاصل کیا۔ یونیورسٹی کے اساتذہ سے متاثر ہوکر اسی یونیورسٹی سے اعلی تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ بی ایڈ کے انٹرنس میں اچھا رینک آنے کے باوجود ایم اے کرنے کا فیصلہ کیا۔ عثمانیہ اور حیدر آباد یونیورسٹی کے ایم اے اردو کے انٹرنس امتحانات لکھے۔ اور دونوں میں سر فہرست رہے۔ تاہم یونیورسٹی آف حیدر آباد سے 1992 ؁ء میں ایم اے اردو کیا۔ جماعت میں سر فہرست رہنے پر انہیں پی جی گو لڈ میڈل مسٹر کرشن کانت کے ہاتھوں عطا کیا گیا۔ امریکی ادارہ سی سی آ ئی ایم کے ایک تحریری مقابلے میں انعام اول حاصل کیا ۔ جس پر انہیں 300امریکی ڈالر انعام میں ملے۔ اسی دوران محمد اسلم فاروقی اخبارات میں مضامین لکھنے لگے تھے اور آل انڈیا ریڈیو حیدرآباد کے یوا وانی پروگراموں میں حصہ لینے لگے تھے ۔یونیورسٹی میں ان کے اساتذہ میں پروفیسر ثمینہ شوکت‘پروفیسر سیدہ جعفر‘پروفیسر مجاور حسین رضوی‘پروفیسر محمد انور الدین‘ ڈاکٹر رحمت یوسف زئی‘ڈاکٹر حبیب نثار اور دیگر اساتذہ شامل رہے۔ محمد اسلم فاروقی نے پروفیسر محمد انور الدین کے زیر نگرانی’’ عزیز احمد کی ناول نگاری کا تنقیدی مطالعہ‘‘ کے موضوع پر ایم فل اور’’ حبیب حیدر آبادی حیات اور کارنامے‘‘ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی تکمیل کی۔ یونیورسٹی کانوکیشن کے موقع پر انہو ں نے اس وقت کے وزیر فینانس مسٹر پی چدمبرم کی موجودگی میں سابق چیفجسٹس آف انڈیا مسٹر وینکٹ چلیا کے ہاتھوں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملازمت کے حصول کی خاطر ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی نے اردو پنڈت ٹریننگ بھی کی۔اور 1997 ؁ء میں منعقدہ ڈی ایس سی امتحان میں غیر مقامی امیدوار کی حیثیت سے ان کا تقرر بہ حیثیت اردو ٹیچر گولکنڈہ ہائی اسکول میں ہوا۔ دن میں سرکاری ملازمت کے بعد شام کے اوقات میں وہ خانگی ملازم رہے اور حیدر آباد کے مشہور روزنامہ سیاست میں بہ حیثیت انگریزی اردو مترجم اور سب ایڈیٹر خدمات انجام دیں۔ 1996 ؁ء میں ان کی شادی ہوئی ان کے خسر جناب سید اکرام علی صاحب اڈمنسٹریٹیو آفیسر موظف حیدر آباد میں دعوتی کام کے ذمے دار ہیں ۔ ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی نے 1998 ؁ء میں اے پی پی ایس سی کے جونیر لکچرر امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی کا تقرر بہ حیثیت جونیر لکچرر ضلع محبوب نگر کے ٹاؤن ناگر کرنول میں ہوا۔ جہاں انہوں نے سات سا ل خدمات انجام دیں۔ وہاں دوران قیام انہوں نے فروغ اردو اور فروغ تعلیم کے لئے کام کیا۔روزنامہ سیاست کے اردو امتحانوں کے انعقاد اور پرچوں کی جانچ وغیرہ کامو ں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔ ناگر کرنول میں طلباء کا ایک ایسا گروپ تیار کیا جنہوں نے مختلف مضامین میں پوسٹ گرائجویشن تک تعلیم حاصل کی اور یہ طلباء آج مختلف کالجوں میں لکچرر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی کو بہتر تعلیمی نتائج حاصل کرنے پر بورڈ آف انٹر میڈیٹ ایجوکیشن حیدر آباد نے بیسٹ لکچرر کا ایوارڈ دیا۔ ناگر کرنول میں قیام کے دوران ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی نے روز نامہ سیاست میں مختلف موضوعات پر دینی ‘معلوماتی ‘علمی اور سائنسی موضوعات پر مضامین لکھے۔ ان کے یہ مضامین بعد میں کتابی شکل میں ’’ قوس قزح‘‘ کے نام سے شائع ہوئے۔ اس کتاب کی اشاعت پر اردو اکیڈیمی آندھرا پردیش نے رقمی تعاون کیا اور بعد میں کتاب کو ایوارڈ کے لئے بھی منتخب کیا۔اردو کی ایک نئی نسل کی تیاری کے بعد ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی کا تبادلہ سنگاریڈی ضلع میدک ہوا۔وہاں دو سال ملازمت کے بعد 2006 ؁ء میں اپنی ملازمت کے آٹھ سال کی تکمیل پر ہی ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی کو ڈگری لکچرر کے عہدے پر ترقی ملی۔ اور ان کا تبادلہ گورنمنٹ ڈگری کالج ظہیر آباد پر ہوا۔ وہاں ان کی تنظیمی صلاحتیوں کو دیکھتے ہوئے انہیں کالج کا اکیڈیمک کو آرڈینیٹر مقرر کیا گیا۔ وہ عثمانیہ یونیورسٹی کے بورڈ آف اسٹڈیز کے رکن نامزد کئے گئے۔ظہیر آباد میں طالب علموں کا ایک وسیع حلقہ تیار کیا۔ اس کے بعد ان کا تبادلہ گری راج گورنمنٹ کالج نظام آباد ہوا۔ جہاں وہ2012ء سے صدر شعبہ اردو کے عہدے پر فائز ہیں۔ نظام آباد آکر انہوں نے اردو اسکالرس اسوسی ایشن قائم کی۔ کالج میں یوجی سی کے زیر اہتمام قومی اردو سمینار’’ اکیسویں صدی اردو ادب چیلنجز اور ان کا حل‘‘ منعقد کیا۔ اردو صحافت پر ورکشاپ منعقد کیا اور حال ہی میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی کے زیر اہتمام بین الاقوامی اردو سمینار بعنوان’’ اردو ادب تہذیبی قدریں ماضی حال اور مستقبل‘‘ کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔ ان کی کاوش سے گری راج کالج کے اردو نصاب میں نظام آباد کے اردو ادیبوں اور شعرا کو نمائیندگی دی گئی۔ وہ اردو کے پہلے لیکچرر ہیں جنہیں کالج کی جانب سے عصری لیپ ٹاپ دیاگیا۔ جس کو استعمال کرتے ہوئے انہوں نے اردو سمینار میں ڈاکٹر تقی عابدی کا براہ راست کناڈا سے لیکچر منعقد کیا اور اس کی کامبیابی کے بعد خود بھی اسکائپ آن لائین لیکچر دینے لگے ہیں ۔پہلی کوشش کے طور پر ایم وی ایس ڈگری کالج طلبا سے نظام آباد سے براہ راست خطاب کیا۔ امید ہے کہ اب وہ اپنی کمپیوٹر ٹیکنالوجی سے ساری دنیا میں اپنے خطابات کو عام کریں گے۔




Comments