تعارف

ادب نامہ



شعراء مشاعروں میں اپنا کلام پیش کرتے، اچھے شعر سینہ بہ سینہ آگے منتقل ہوتے جاتے۔کتابوں کی اشاعت اور دستیابی نے ادب کے قارئین کے لیے مزید سہولت پیدا کر دی۔ ادبی جرائد میں معیاری شعر و ادب کی اشاعت۔۔۔۔ کتنے ادوار گزر گئے۔ ہر دور کی اپنی خوبیاں، اپنی خامیاں۔ کسی زمانے میں فنون اور اوراق میں تخلیقات کی اشاعت ، مہینوں انتظار کے بعد،معیار کی ضمانت گردانی جاتی تھی۔ سیپ، ادبی دنیا، نقوش، افکار، بیاض، فانوس، شعرو سخن، ادبیات۔۔۔۔ اسی سلسلے کی رنگا رنگ کڑیاں ہیں۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ ادب کی ترویج کی بات کی جائے تو مشاعروں سے جرائد کی اشاعت تک ایک لمبا عرصہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ وقت نے ایک بڑا پلٹا کھایا، انٹرنیٹ کی آمد نے معاملات یک سر تبدیل کر دیے۔ باہمی رابطے برقیا دیے گئے، برقیائے جانے کے اس عمل میں روابط کی نوعیت بھی تبدیل ہوتی نظر آئی۔ ۔۔۔ سوشل میڈیا، کام بہت آسان ہو گیا،روابط بڑھ گئے، باہمی گفت و شنید کے در کھلتے چلے گئے۔ تخلیقات کی شیئرنگ آسان ہو گئی۔ لیکن لکھو، فیس بک پر چڑھا دو اور Likesگننے بیٹھ جاو۔۔۔۔ اس روش نے معیار کا ستیاناس کر ڈالا۔ یاد کیجئے، ادبی جرائد میں مدیرکا ایک طے شدہ کردار تھا، اسے معیار کی ضمانت سمجھا جاتا تھا لیکن یہاں تو ایسا کوئی نہیں۔ہم کہہ سکتے ہیںکہ معیار کے لیے کوئی چھلنی باقی نہ رہی۔ ہر طرف ایک ہی دعوی کہ جو بھی ہوں، بس میں۔۔۔۔! مدیر جو بیچ سے نکل گیا۔ کتب کی آن لائن دستیابی سے ادب اور دیگر علوم کے طالب علموں کے لیے سہولت کا ایک اور در وا ہو گیا۔۔۔۔۔لیکن ہمارے ہاں تو ہمیشہ یہ رونا رویا جاتا رہا کہ کتاب پڑھی نہیں جاتی، اگر ایسا ہی تھا تو کتب کو آن لائن کرنے کا کیا جواز بنتا ہے لیکن یہ بات الگ سے ایک مقالہ کی متقاضی ہے۔قصہ مختصر، دیگر علوم کے پہلو بہ پہلو ادبی مواد تک رسائی آسان ہو گئی۔ مختلف ویب سائٹس بن گئیں، فرد فردتخلیقات سے کتب تک۔۔۔۔۔سب ان ویب سائٹس سے مل جاتا ہے۔ لیکن معیار۔۔۔۔ اصل مسئلہ تو معیار ہی کا ہے۔ معیار کی بات کی جائے تو ایک دو ویب سائٹس کو چھوڑ کر۔۔۔۔ادب نامہ کی تشکیل اسی معیار کو قائم کرنےاور رکھنے کی ایک کوشش ہے۔ہر شعبے کا اپنا ایک مدیر قائم کر دیا گیا ہے۔جو صرف معیاری مواد کی برقی اشاعت کے لیے ذمہ دار ہو گا۔ ایک تابندہ ادبی روایت ہمیں ورثہ میں ملی ہے۔اس کو زندہ رکھنا اور قارئین و تازہ واردان ادب تک پہنچانا ہم اپنا فرض گردانتے ہیں۔سو وہ جو حیات ہیں اور وہ جو اب ہم میں نہیں۔۔۔۔۔سب کی تخلیقات ادب نامہ پر ملیں گی۔ مطلوبہ مواد تک بہ آسانی رسائی کے لیے ادب نامہ میںعقیدت(حمد، نعت، سلام( ، علاقائی ادب )پنجابی، سندحی، بلوچی، پشتو، سرائیکی، پوٹھوہاری(، افسانوی نثر )افسانہ، مائیکرو فکشن، خاکہ نگاری، ناول، ناولٹ، کہانیاں(، غیر افسانوی نثر )تنقید و تحقیق، کالم، انشائیہ، سفر نامہ، تاریخ، مضمون نگاری(، شاعری )غزل، نظم، عشرہ( ۔۔۔تمام اصناف ادب کے لیے الگ الگ سیکشن ترتیب دیے گئے ہیں۔بیت بازی کے لیے الگ سے ایک شعبہ قائم کیا گیا ہے۔کتابوں کے سیکشن میں مختلف ادیبوں شاعروں کی کتب رکھی جائیں گی۔اس کے علاوہ مختلف ادبی تقریبات کا احوال، تصاویر وغیرہ کے لیے بھی ایک گوشہ قائم کر دیا گیا ہے۔ اردو ادب کے برقیائے جانے کا سلسلہ دیگر زبانوں کےادب سے بہت پیچھے ہے۔ اردو صرف ایک زبان ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔ ایک تہذیب۔۔۔ ہماری تہذیب، ہماری پہچان کا نام ہے، اس کی ترویج و ترقی کے لیے بہت کام کی ضرورت ہے۔ یہ کام فرد واحد کے کرنے کا نہیں۔ اس کے لیے ایک پلیٹ فارم اور اس پلیٹ فارم پر ادیبوں شاعروں کے اکٹھ کی ضرورت ہے۔ ادب نامہ اسی پلیٹ فارم کا نام ہے۔آئیے ہم سب مل کر اردو زبان و ادب کی تعمیر و ترقی میں اپنا اپنا حصہ ڈالیں۔

Our team