غزل



آج چھانٹی کروں گا خوابوں کی حسیب الحسن


تیرا حسنی نہیں رہا ہوں میں حسیب الحسن


خودکشی جیسی حماقت کو غنیمت جانا حسیب الحسن


تو مری آنکھ کی بصارت تھا حسیب الحسن


اس سے کہہ دو کہ مری ذات سے باہر نکلے حسیب الحسن


خدا سے بے تکلف ہو رہے ہیں حسیب الحسن


تو یاد رہنے والی غزل ہے فراز کی حسیب الحسن


میں تری کھل کے حمایت بھی نہیں کر سکتا حسیب الحسن


کوئی دریا نہیں ہے کوزے میں حسیب الحسن


اس نے مجھے کہا تھا میں اچھا مریض ہوں حسیب الحسن


پلٹنے والوں نے دشنام جب تمہارا دیا نیلوفرافضل


گھر کے اشجار تھے سو ظرف کشادہ نہ کیا نیلوفرافضل


کتاب بند ہوئ۔۔ آسماں کا باب کُھلا نیلوفرافضل


ادھورے وعدوں کو ،، کر کے شمار ہنسنے لگا ذوالفقار ذکی


جن کا دعویٰ تھا کہ لائیں گے وہ آدھا کر کے ذوالفقار ذکی


ذرا سی دیر کو آتا ہے ،، لوٹ جاتا ہے ذوالفقار ذکی


ان کہی سنا دو نا ندیم فراز


جیت کو ہار ھونے دینا نہیں گل حوریہ


غزل محمد فیضان فیضیؔ


کٹی ھے عمر سزا کی طرح ندیم فراز


میرے جذ بوں نے انتہا دیکھی ندیم فراز


کیسے دل گزارے رات ندیم فراز


جلتے بجھتے تارے لوگ ندیم فراز


شک اس میں نہیں ھے ندیم فراز


خامشی دونوں طرف ندیم فراز