غزل



ابتدائے موسمِ گُل میں خزاں آنے کا دکھ اللہ نواز


کہا بھی تھا کہ نہ گاؤں میں کارخانے لگا اللہ نواز


تیرگی میں ہے، روشنی اپنی انصر احمد بلاول


حوس نہیں ہے تماش بینوں کو وحشتیں ہیں ماہ نور رانا


روزن۔ دل کو تری دھن میں سنہرا دیکھنا ماہ نور رانا


گلاب۔ سینہ ئے کوزہ گراں مچلنے دو ماہ نور رانا


پربت کی چوٹیوں میں سے دریا کشید کر اُسامہ ارشد


کسی نے یونہی شرارت میں وقت ضائع کیا اُسامہ ارشد


مری دسترس میں وہ آئے گا مرے دل سے گرد ہٹائے گا اُسامہ ارشد


جسے بلایا گیا آنکھ کے اشارے سے اُسامہ ارشد


حرفِ بے معنی گیا اپنے معانی کی طرف اُسامہ ارشد


مسمار ہوئی ہر دفعہ تعمیر ہماری اُسامہ ارشد


میں خوف کھاتا تھا؛ دریا کو پار کر نہ سکا اُسامہ ارشد


دل کے اُجڑے مکان میں آئی اُسامہ ارشد


شہزادی نے رکّھا ہاتھ اُسامہ ارشد


یہ حبس خیمہ ء جاں کی طناب کاٹ نہ دے ماہ نور رانا


کوئی چاک۔ گریباں کو سیتا نہیں کوئی روتا نہیں ماہ نور رانا


بڑا شہ زور وہ پنچھی رہا ہونے سے پہلے تھا ماہ نور رانا


ہر بار اٹھا لاتے ہو یہ تیر یہ بھالے ماہ نور رانا


سچ کہوں تو ان زمیں زادوں سے وحشت ہو رہی ہے لاریب فرید


کیا ہوا جو یہاں سبھی خوش ہیں محمد عامر


تمام شہر سے پورا کرایہ لے رہا ہوں محمد عامر


چلنے کا گماں چلا رہا تھا محمد عامر


بولتی ہیں تو کھلتی ہیں محمد عامر


اپنی قیمت بہت بتائی ہے محمد عامر