غزل



پاؤں دیکھے گی نہ تاخیر کا دکھ سمجھے گی آزاد حسین آزاد


رنگ کے گہرے تھے لیکن دور سے اچھے لگے آزاد حسین آزاد


اندھیرے دور کرے نور سے اجالے مجھے آزاد حسین آزاد


ھو گئی ختم آرزو صاحب گل حوریہ


مجھ سے اندھے کو مری جان سہارا نہ بنا حسیب الحسن


ہماری آنکھ سے آنسو نکل کے اڑتے رہے حسیب الحسن


ہم ترے شہر کو خوشاب نہیں کہہ سکتے حسیب الحسن


آپ مِل نہیں رھے گل حوریہ


وہ پوچھتی رہی سوال مجھ سے عمیر صدیقی


کہیں نہیں ہے مگر کو بہ کو بھی رہتی ہے ذوالفقار ذکی


تیری چاہت میں ہو کے مست ، چلا آتا ہوں ذوالفقار ذکی


بتا دیا تجھے با قاعدہ نہیں سمجھے گل حوریہ



تو نہیں ہے تو یہ بے کار بھی ہو سکتی ہے اختر شمار


وہ رہگذر ہے نہ دل میں کوئی ملال کی دھوپ عدیل قمر


جفا سے کیا اب ہوگا عمیر صدیقی


حقیقتِ جام فاش ہونے کو ہے عمیر صدیقی


تهوڑا لکها اور زیادہ چهوڑ دیا تہذیب حافی


کب پانی گرنے سے خوشبو پھوٹی ہے تہذیب حافی


ہم ایک عمر اسی غم میں مبتلا رہے تھے تہذیب حافی


مجھ کو دروازے پہ ہی روک لیا جاتا ہے تہذیب حافی


یہ کس نے باغ سے اُس شخص کو بلا لیا ہے تہذیب حافی


پرائی آگ پہ روٹی نہیں بناؤں گا تہذیب حافی


زخموں نے مجھ میں دروازے کھولے ہیں تہذیب حافی


تیرا چپ رہنا مرے ذہن میں کیا بیٹھ گیا تہذیب حافی