غزل



غمِ ہجراں کی ماری ڈھونڈتی ہے صائمہ آفتاب


آ جاتا ہے خود پاس، بُلانا نہیں پڑتا صائمہ آفتاب


سُرور و رقص و مستی ، میں نہیں ہوں صائمہ آفتاب


مجھ میں اب نہیں باقی، حوصلہ بچھڑنے کا صائمہ آفتاب


گمان پڑتا یہی ہے کہ رہبری ہوئی ہے صائمہ آفتاب


اکیلی شام میں اکثراداسی مسکراتی ہے صائمہ آفتاب


عبث وجود کا دکھ ، تنگئ حیات کا دکھ صائمہ آفتاب


رُک کے حیرت سے سوچتا ہوں میں محمد فیضی


ایسا ترے دیار میں آ کر مکیں ہوا محمد فیضی


اک نیا خواب ہی بستر سے نکالا جائے محمد فیضی


کسی وصال کسی ہجر سے گزرتے ہوئے محمد فیضی


اٹھ کے وقت ِ سحر نکلتے ہیں محمد فیضی


اس لیے دل برا کیا ہی نہیں محمد فیضی


اچھا ہے تو نے ان دنوں دیکھا نہیں مجھے محمد فیضی


جانتا ہوں کہ کئی لوگ ہیں بہتر مجھ سے محمد فیضی


رات گہری ہے مگر ایک سہارا ہے مجھے محمد فیضی


جو دل کو پہلے میسر تھا کیا ہوا اس کا محمد فیضی


آج چھانٹی کروں گا خوابوں کی حسیب الحسن


تیرا حسنی نہیں رہا ہوں میں حسیب الحسن


خودکشی جیسی حماقت کو غنیمت جانا حسیب الحسن


تو مری آنکھ کی بصارت تھا حسیب الحسن


اس سے کہہ دو کہ مری ذات سے باہر نکلے حسیب الحسن


خدا سے بے تکلف ہو رہے ہیں حسیب الحسن


تو یاد رہنے والی غزل ہے فراز کی حسیب الحسن


میں تری کھل کے حمایت بھی نہیں کر سکتا حسیب الحسن