غزل



گھر مجھے رات بھر ڈرائے گیا رئیس فروغ


گھر میں صحرا ہے تو صحرا کو خفا کر دیکھو رئیس فروغ


گرم زمیں پر آ بیٹھے ہیں خشک لب محروم لیے رئیس فروغ


گلیوں میں آزار بہت ہیں گھر میں جی گھبراتا ہے رئیس فروغ


فضا اداس ہے سورج بھی کچھ نڈھال سا ہے رئیس فروغ


فضا ملول تھی میں نے فضا سے کچھ نہ کہا رئیس فروغ


دنیا کا وبال بھی رہے گا رئیس فروغ


دھوپ میں ہم ہیں کبھی ہم چھاؤں میں رئیس فروغ


دیر تک میں تجھے دیکھتا بھی رہا رئیس فروغ


اپنی مٹی کو سرافراز نہیں کر سکتے رئیس فروغ


اپنے ہی شب و روز میں آباد رہا کر رئیس فروغ


آنکھوں کے کشکول شکستہ ہو جائیں گے شام کو رئیس فروغ


آنکھیں جن کو دیکھ نہ پائیں سپنوں میں بکھرا دینا رئیس فروغ


جہانِ گریہ جو آدم کو خلد کا دکھ ہے اسامہ خالد


خاموشی کی رمز سجھا اسامہ خالد


کچھ بھولی اور کچھ تیکھی آوازیں ہیں اسامہ خالد


سخت وحشی ہوں بلا وجہ بپھر جاتا ہوں اسامہ خالد


پاؤں کا دھیان تو ہے راہ کا ڈر کوئی نہیں اسامہ خالد


کنڈی بجا کے اس لیے بھاگا نہیں ہوں میں اسامہ خالد


ٹھیک ہے ان دنوں خود پر ذرا غصہ ہوں میں اسامہ خالد


کوئی ملال ہوں دکھ ہوں بتاؤ کیا ہوں میں اسامہ خالد


سیاہ کمرے میں جب صبح کا اجالا ہوا اسامہ خالد


رنج کی چھاؤں ہے جنگل ہے خلا ہے مجھ میں اسامہ خالد


وحشت بتاؤ کیسا سفر کر رہا ہوں میں؟ اسامہ خالد


اور تو اس تیرگی میں اس نے کیا ہونے دیا اسامہ خالد