غزل



کیا تجھے ہر کسی پہ شک رہے گا؟ ارسلان احمد


دل ہے تو محبّت ہو آنکھیں ہیں تو حیرت ہو مبشر متین


برائوزنگ میں زمین کی ہسٹری نکلتی فیضان ہاشمی


سب دکھائی دے گا لیکن جان کر اندھا بنے گا فیضان ہاشمی


آتش ہو ، اور معرکہء خیر و شر نہ ہو اختر عثمان


یہ سرد رات کوئی کس طرح گزارے گا رئیس فروغ


شہروں کے چہرہ گر جنھیں مرنا تھا مر گئے رئیس فروغ


تمھارے ساتھ ہمارا سفر عجب ہے میاں رئیس فروغ


کتنی ہی بارشیں ہوں شکایت ذرا نہیں رئیس فروغ


فضا ملول تھی میں نے فضا سے کچھ نہ کہا رئیس فروغ


آنکھیں جن کو دیکھ نہ پائیں سپنوں میں بکھرا دینا رئیس فروغ


راتوں کو دن سپنے دیکھوں، دن کو بِتاؤں سونے میں رئیس فروغ


اوپر بادل نیچے پربت بیچ میں خواب غزالاں کا رئیس فروغ


سڑکوں پہ گھومنے کو نکلتے ہیں شام سے رئیس فروغ


کہہ رہے تھے لوگ صحرا جل گیا رئیس فروغ


کچھ اس لئے بھی مجھے آئینہ پسند نہیں ثناءاللہ ظہیر


محبت کے مسافر جب پلٹنا بھول جاتے ہیں ذوالفقار ذکی


دیکھنا یہ ہے کہ لوگوں نے اثر کتنا لیا ثناءاللہ ظہیر


مجھ پر جس رحمت کا سایہ ھے وہ رحمت دیکھ ثناءاللہ ظہیر


جو دریا بن کے ملتا تھا وہ دریا تو نہیں تھا ثناءاللہ ظہیر


مرے خلوص کا ایسے صلہ مجھے دے گا ثناءاللہ ظہیر


مکاں گریں گے جب اہل ھوس کے خوش ہوگا ثناءاللہ ظہیر


مکاں گریں گے جب اہل ھوس کے خوش ہوگا ثناءاللہ ظہیر


حاصلِ گریہ کیا ہے بس دیواریں سیلی ہو جاتی ہیں شناور اسحاق


کوئی منظر بنا اداسی کا بلقیس خان