غزل



بسی ہے فکر یوں عرشِ بریں پر ذوالفقار نقوی


ہر گماں کو یقیں بناتے ہیں انصر احمد بلاول


کئی دنوں تک نظر میں رہنے پہ ہاں کرے گی نادر عریض


یہ تو ہونٹوں کو گنہگار کیا ہے نادر عریض


وقت دیتا تھا وہ ملنے کا۔ تبھی رکھی تھی نادر عریض


ہدف پہ اتنے سلیقے سے وار کرتے ہیں نادر عریض


نئے مجرم ہیں۔ پرانوں کی طرف دیکھتے ہیں نادر عریض


تمام شہر کو حلیہ بتا دیا گیا ہے نادر عریض


کسی چراغ کو تو زادِ راہ کرنا تھا ارسلان احمد


دشت۔ غم میں مسکرانے والا سردار ایش احمد


چاک دامن سلا نہیں کرتے سردار ایش احمد


بڑے گھر کو ثمود و عاد سے جوڑا نہ جائے ارسلان احمد


گھر مجھے رات بھر ڈرائے گیا رئیس فروغ


گھر میں صحرا ہے تو صحرا کو خفا کر دیکھو رئیس فروغ


گرم زمیں پر آ بیٹھے ہیں خشک لب محروم لیے رئیس فروغ


گلیوں میں آزار بہت ہیں گھر میں جی گھبراتا ہے رئیس فروغ


فضا اداس ہے سورج بھی کچھ نڈھال سا ہے رئیس فروغ


فضا ملول تھی میں نے فضا سے کچھ نہ کہا رئیس فروغ


دنیا کا وبال بھی رہے گا رئیس فروغ


دھوپ میں ہم ہیں کبھی ہم چھاؤں میں رئیس فروغ


دیر تک میں تجھے دیکھتا بھی رہا رئیس فروغ


اپنی مٹی کو سرافراز نہیں کر سکتے رئیس فروغ


اپنے ہی شب و روز میں آباد رہا کر رئیس فروغ


آنکھوں کے کشکول شکستہ ہو جائیں گے شام کو رئیس فروغ


آنکھیں جن کو دیکھ نہ پائیں سپنوں میں بکھرا دینا رئیس فروغ