کہ کھلتا ہے اسی صحبت سے نسخہ نکتہ دانی کا



الٰہی! رکھ مجھے تو خاکِ پا اہلِ معانی کا
کہ کھلتا ہے اسی صحبت سے نسخہ نکتہ دانی کا

کیا یک بات میں واقف مجھے رازِ نہانی کا
لکھوں غنچے اُپر حرف اُس دہن کی نکتہ دانی کا

کتابت بھیجنی ہے شمع بزمِ دل کوں اے کاتب
پرِ پروانہ اوپر لکھ سخن مجھ جاں فشانی کا

عزیزاں بعد مرنے کے نہ پوچھو تم کہ تنہا ہوں
لکھا ہوں پردۂ دل پر خیال اس یارِ جانی کا

چھپا کر پردۂ فانوس میں رخ شمع گریاں ہے
سنیا ہے جب سوں آوازہ تری روشن بیانی کا

پرت کی بزم میں تا سرخ روئی مجھکو ہو حاصل
نین سوں اپنے دے ساغر شرابِ ارغوانی کا

بجا ہے گر کرے پرواز رنگِ چہرۂ عاشق
ہوا ہے ذوق موہن کو لباسِ زعفرانی کا

ترے مکھ کی صفائے حیرت افزا لکھ سکے کیوں کر
قلم ہے جوہرِ آئینۂ ناصافِ مانی کا

رہے وہ مُو کمر جیوں دیدۂ تصویر حیراں ہو
لکھے گر خامۂ موسوں بیاں مجھ ناتوانی کا

شرابِ جلوۂ ساقی سوں مت کر منع اے زاہد
یہی ہے مقتضا عالم میں ہنگامِ جوانی کا

ولی جن نے نہ باندھا دل کوں اپنے نونہالوں سوں
نہ پایا اُن نے پھل ہرگز جہاں میں زندگانی کا






مصنف کے بارے میں


...

ولی محمد ولی

1667 - 1725 | Deccan


ولی دکنی اردو غزل کے رجحان ساز کلاسک شاعروں کی اولین صف میں ہیں




Comments