اس کوں پہاڑ ہووے پھر طور کا تماشا



موسیٰ اگر جو دیکھے تجھ نور کا تماشا
اس کوں پہاڑ ہووے پھر طور کا تماشا


اے رشک باغ جنت! تجھ پر نظر کئے سوں
رضواں کو ہووے دوزخ پھر حور کا تماشا


کثرت کے پھول بن میں جاتے نہیں ہیں عارف
بس ہے موحداں کوں منصور کا تماشا


وہ سر بلند عالم از بس ہے مجھ نظر میں
جیوں آسماں عیاں ہے مجھ دور کا تماشا


تجھ عشق میں ولی کے آنچھو ابل چلے ہیں
اے بحر حسن آ دیکھ اس پور کا تماشا






مصنف کے بارے میں


...

ولی محمد ولی

1667 - 1725 | Deccan


ولی دکنی اردو غزل کے رجحان ساز کلاسک شاعروں کی اولین صف میں ہیں




Comments