شیطاں نے سب کی خاک میں شہوت ملائی تھی



منظر میں اس کے عکس سے رنگت ملائی تھی
پھر میں نے رنگ رنگ میں وحشت ملائی تھی

کچھ شک نہیں ہے حلقئہ یزداں پہ غالباً
شیطاں نے سب کی خاک میں شہوت ملائی تھی

بالکل بھی التفات یا چاہت نہیں تمہیں
تو کیسے تم نے خط میں محبت ملائی تھی

یہ سوچ کر کہ خواب سے آنکھیں چرائوں گا
میں نے ہی اپنی نیند میں غفلت ملائی تھی

یہ شوق التفات کا یوں ہی نہیں مجھے
مجھ میں بنانے والے نے رحمت ملائی تھی






مصنف کے بارے میں


...

اسامہ منیر

07-08-2000 - | سرگودھا


اگست 2000 کو سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ میٹرک 2016 میں کیڈٹ کالج سکردو سے کیا۔ ایف-ایس-سی 2018 میں ریڈر کالج سرگودھا سے کی۔ آپ اس وقت جامعہ سرگودھا میں ایل-ایل-بی کے طالبعلم ہیں۔




Comments