کب پانی گرنے سے خوشبو پھوٹی ہے



کب پانی گرنے سے خوشبو پھوٹی ہے 
مٹی کو بھی علم ہے بارش جھوٹی ہے


اک رشتے کو لاپروائی لے ڈوبی 
اک رسی ڈھیلی پڑنے پر ٹوٹی ہے

ہاتھ ملانے پر بھی اس پہ کھلا نہیں 
یہ انگلی پر زخم ہے یا انگوٹھی ہے

اُس کا ہنسنا ناممکن تھا یوں سمجھو
سیمنٹ کی دیوار سے کونپل پھوٹی ہے

!نوح سے پوچھو پیچھے رہ جانے والو 
کشتی چُھوٹی ہے کہ دنیا چُھوٹی ہے

ہم نے ان پر شعر نہیں لکھے حافی 
ہم نے ان پیڑوں کی عزت لُوٹی ہے





مصنف کے بارے میں


...

تہذیب حافی

5 دسمبر 1989 - | تونسہ شریف


اصل نام تہذیب الحسن قلمی نام تہذیب حافی۔ نئے انداز سے بھرپور، جدید اور خوبصورت لب و لہجے کے نوجوان شاعر تہذیب حافی 5 دسمبر 1989 کو تونسہ شریف(ضلع ڈیرہ غازیخان) میں پیدا ہوئے۔ مہران یونیورسٹی سے سافٹ وئیر انجینرنگ کرنے کے بعد بہاولپر یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا۔ آج کل لاہور مین مقیم ہیں۔




Comments