ذہن پر زور دینے سے بھی یاد آتا نہیں ہے کہ کیا دیکھتے تھے



ذہن پر زور دینے سے بھی یاد آتا نہیں ہے کہ کیا دیکھتے تھے
صرف اتنا پتہ ہے کہ ہم عام لوگوں سے بلکل جدا دیکھتے تھے

تب ہمیں اپنے پرکھوں سے ورثے میں آئی ہوئی بدعا یاد آتی
جب کبھی اپنی آنکھوں کےآگے تجھے شہر جاتا ہوا دیکھتے تھے

سچ بتائیں تو تیری محبت نے خود پر توجہ دلائی ہماری 
تو ہمیں چومتا تھا تو گھر جا کے ہم دیر تک آئینہ دیکھتے تھے

سارا دن ریت کے گھر بناتے ہوئے اور گراتے ہوئے بیت جاتا 
شام ہوتےہی ہم دوربینوں میں اپنی چھتوں سےخدا دیکھتے تھے

دوست کس کوپتہ ہےکہ وقت اُسکی آنکھوں سےپھر کس طرح پیش آیا
ساتھ میں تو بہت خوش تھے ہم اور اک دوسرے کو بڑا دیکھتے تھے

اُس لڑائی میں دونوں طرف کچھ سپاہی تھےجونیندمیں بولتےتھے
جنگ ٹلتی نہیں تھی سروں سے مگر خواب میں فاختہ دیکھتے تھے






مصنف کے بارے میں


...

تہذیب حافی

5 دسمبر 1989 - | تونسہ شریف


اصل نام تہذیب الحسن قلمی نام تہذیب حافی۔ نئے انداز سے بھرپور، جدید اور خوبصورت لب و لہجے کے نوجوان شاعر تہذیب حافی 5 دسمبر 1989 کو تونسہ شریف(ضلع ڈیرہ غازیخان) میں پیدا ہوئے۔ مہران یونیورسٹی سے سافٹ وئیر انجینرنگ کرنے کے بعد بہاولپر یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا۔ آج کل لاہور مین مقیم ہیں۔




Comments