اگر یہ شام شرماتی رہے گی



اگر یہ شام شرماتی رہے گی 
اداسی ہاتھ سے جاتی رہے گی

دریچوں سے ہوا آئے نہ آئے 
تری آواز تو آتی رہے گی

تجهے میں اس طرح چهوتا رہا تو 
بدن کی تازگی جاتی رہے گی

یہ جنگلی پهول میرے بس میں کب ہے
یہ لڑکی یوں ہی جذباتی رہے گی

تری تصویر ہٹ جائے گی لیکن 
نظر دیوار پر جاتی رہے گی






مصنف کے بارے میں


...

تہذیب حافی

5 دسمبر 1989 - | تونسہ شریف


اصل نام تہذیب الحسن قلمی نام تہذیب حافی۔ نئے انداز سے بھرپور، جدید اور خوبصورت لب و لہجے کے نوجوان شاعر تہذیب حافی 5 دسمبر 1989 کو تونسہ شریف(ضلع ڈیرہ غازیخان) میں پیدا ہوئے۔ مہران یونیورسٹی سے سافٹ وئیر انجینرنگ کرنے کے بعد بہاولپر یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا۔ آج کل لاہور مین مقیم ہیں۔




Comments