اب اُس جانب سے اس کثرت سے تحفے آرہے ہیں




اب اُس جانب سے اس کثرت سے تحفے آرہے ہیں
کہ ہم گھر میں نئی الماریاں بنوا رہے ہیں

ہمیں ملنا تو ان آبادیوں سے دور ملنا 
اُسے کہنا گئے وقتوں میں ہم دریا رہے ہیں

بچھڑ جانے کا سوچا تو نہیں تھا ہم نے لیکن 
تجھے خوش رکھنے کی کوشش میں دکھ پہنچا رہے ہیں

تجھے کس کس جگہ پر اپنے اندر سے نکالیں 
ہم اس تصویر میں بھی تجھ سے مل کر آرہے ہیں 

ہزاروں لوگ اُس کو چاہتے ہوں گے ہمیں کیا
کہ ہم اُس گیت میں سے اپنا حصہ گا رہے ہیں

بُرے موسم کی کوئی حد نہیں تہذیب حافی
خزاں آئی ہے اور پنجرے میں پر مرجھا رہے ہیں 





مصنف کے بارے میں


...

تہذیب حافی

5 دسمبر 1989 - | تونسہ شریف


اصل نام تہذیب الحسن قلمی نام تہذیب حافی۔ نئے انداز سے بھرپور، جدید اور خوبصورت لب و لہجے کے نوجوان شاعر تہذیب حافی 5 دسمبر 1989 کو تونسہ شریف(ضلع ڈیرہ غازیخان) میں پیدا ہوئے۔ مہران یونیورسٹی سے سافٹ وئیر انجینرنگ کرنے کے بعد بہاولپر یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا۔ آج کل لاہور مین مقیم ہیں۔




Comments