ذکر اُن کی طبیعت کی روانی کا ہوا ہے




ذکر اُن کی طبیعت کی روانی کا ہوا ہے
آغاز تو اب اصل کہانی کا ہوا ہے
اک سمت اڑے جاتے ہیں صد رنگ پرندے
اعلان کہیں نقل مکانی کا ہوا ہے
بیکار کے اک زعم میں دریا سے نکل کر
جو حال مِرے شہر کے پانی کا ہوا ہے
ہر ضرب پہ کہتی ہے زمیں اے مِرے دہقان
ٹکراؤ بڑھاپے سے جوانی کا ہوا ہے
بدلاؤ بھی لہجے میں ہے تیور بھی ہیں تبدیل
لگتا ہے اثر عجز بیانی کا ہوا ہے





Comments