خود پر یقین اور لہو میں لپک رہے




خود پر یقین اور لہو میں لپک رہے
خود لذتی بھی فن ہے اگر خود تلک رہے
دونوں طرف کے پیڑ متاثر نہ ہو سکیں
دشمن کی خیر دشمنی دیوار تک رہے
تو بھی رہے سکون میں، ہم بھی ہوں پرسکون
اے کائنات تجھ پہ اگر سب کا حق رہے
کل جانے ایسی قوتِ برداشت ہو نہ ہو
جو کچھ ہے اس کے دل میں وہ سب آج بک رہے
تشکیک سے جڑی ہے ترقی جہان کی
دل میں یقین ہو بھی تو آنکھوں میں شک رہے
منزل کا سب کے ساتھ رویہ تھا ایک سا
کچھ ہمسفر اگرچہ ہمارے سبک رہے
جائے نظر جہاں بھی لگادے وہیں پہ آگ
آنکھوں میں ایک ایسی بھیانک چمک رہے
کرنے لگا ہوں اس پہ تحیر کی انتہا
آنکھوں کو جس قدر ہے جھپکنا جھپک رہے





Comments