یہ کام کسی طور اضافی نہ سمجھیے




یہ کام کسی طور اضافی نہ سمجھیے
تہذیب کو فطرت کے منافی نہ سمجھیے
اک یہ بھی تو کلیہ ہے ترقی کا جہاں میں
جو کچھ ہے میسر اسے کافی نہ سمجھیے
بس اتنی گزارش ہے مری خلقِ خدا سے
ہر ایک لکھاری کو صحافی نہ سمجھیے
ویسے تو بڑے کام کی شے ہے یہ معافی
لیکن اسے ہر روگ میں شافی نہ سمجھیے
رہتا ہے ابھی سب عملی طور پہ کرنا
لفظوں کا الٹ پھیر تلافی نہ سمجھیے
وعدہ ہوا تھا آپ سے خاموش رہیں گے
لکھتے ہیں، اسے وعدہ خلافی نہ سمجھیے





Comments