ہوا کا زور تھا اشجار شور کرنے لگے




ہوا کا زور تھا اشجار شور کرنے لگے
میں چل پڑا تو مِرے یار شور کرنے لگے
ہمیں تو کردیا خاموش حسنِ یوسف نے
ہماری جیب کے دینار شور کرنے لگے
تنک مزاج گرد اڑانے آئی تھی
چراغ طاق میں بیکار شور کرنے لگے
کبھی تو ایسا کوئی وقت زندگی دیکھے
میں چپ رہوں مِرا کردار شور کرنے لگے
شبِ فراق مِری آنکھیں شور کرتی رہیں
شبِ وصال تھی، رخسار شور کرنے لگے
نسیمِ صبحِ بہاراں گزرنے والی تھی
بلائے حبس کے آزار شور کرنے لگے
مکان آگ نے جھلسا کے رکھ دیا سالِف
مکیں تھے چپ، در و دیوار شور کرنے لگے





Comments