ہم کبھی ریت کے ٹیلوں کی طرف دیکھتے ہیں




ہم کبھی ریت کے ٹیلوں کی طرف دیکھتے ہیں
اور کبھی گھورتی چیلوں کی طرف دیکھتے ہیں
اُن سے جب پوچھتے ہیں شہر سے جانے کا سبب
وہ بہت دیر فصیلوں کی طرف دیکھتے ہیں
اپنے ناکردہ پہ ہوتے ہیں پشیمان بہت
جب کٹہرے سے وکیلوں کی طرف دیکھتے ہیں
گھر پہنچنے کی پرندوں کو بہت جلدی ہے
چشمِ بیمار سے جھیلوں کی طرف دیکھتے ہیں
بھوکے بچوں کی نگاہیں نہیں ہٹتیں ہم سے
اور ہم خالی پتیلوں کی طرف دیکھتے ہیں
ہم سے ملنے کے لیے ان کو بھی درکار تھے لوگ
آئے دن ہم بھی وسیلوں کی طرف دیکھتے ہیں





Comments